خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 431
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۳۱ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء منصوبہ تھا وہ ایک پل کا کام دیتا ہے خلافت ثانیہ اور خلافت ثالثہ کے درمیان۔یہ نہ سمجھیں کہ خلافت کے بدلنے کے ساتھ کوئی نئی کوشش ہوتی ہے۔تسلسل ہے جس کے اندر کوئی روک نہیں۔جس میں یہ ڈر نہیں کہ ٹوٹ گیا اور نئے سرے سے آگیا ہے۔ایک جگہ ٹھہر کر نئے سرے سے حرکت نہیں ہوتی۔ایک مسلسل حرکت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ شروع ہوئی ہے وہی حرکت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تسلسل کے ساتھ آگے سے آگے Momentum gain کر کے بڑھ رہی ہے لیکن بعض چیزوں کو نمایاں کرنے کے لئے یہ فضل عمر فاؤنڈیشن کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس کی جو معیاد تھی اس میں مالی قربانی دے کر حصہ لینے کی وہ غالباً تین سال کی تھی۔اس کے بعد وہ ختم ہو گئی لیکن جو اموال جمع ہوئے تھے اور وہ جیسا کہ وہ مشروط کئے گئے تھے پہلے دن سے اُن کو کام پر لگایا جائے گا اور اُن کے منافع سے و کام کئے جائیں گے جن سے یہ منصوبہ چلایا جائے گا۔چلتا رہے گا۔قیامت تک چلے گا۔اس کے پانچ سال بعد نصرت جہاں آگے بڑھو کا منصو بہ بن گیا۔نصرت جہاں آگے بڑھو کا جو منصوبہ ہے وہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کا پیارا گر کسی کو حاصل ہو تو میں نے ابھی اشارہ کیا تھا Momentum gain کرتی ہے حرکت، تو پانچ سال کے بعد اتنی قربانیاں اور دینے والے اور فضل عمر فاؤنڈیشن میں زائد چندہ دینے والے یعنی جو لازمی چندے ہیں یا تحریک کے چندے یا اور بہت سارے چندے ہیں۔جماعت بڑی مالی قربانی دیتی ہے۔پھر چند سال کے بعد نصرت جہاں کے چندے شامل ہو گئے ۱۹۷۰ ء میں اور اس کی مالی قربانی کی معیاد تین سال تھی اور کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ سٹرلنگ کہا گیا تھا کہ وہاں خرچ کرو۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ایک لاکھ پاؤنڈ سٹرلنگ کی جگہ دواڑھائی لاکھ پاؤنڈسٹرلنگ کی رقم ساری دنیا میں جمع ہوگئی اس وقت تک۔بعض ملکوں سے تو باہر نہیں نکلی وہ اُن کے اپنے ملکوں میں ہے۔بعض جگہ سے باہر نکلی اور اس میں کچھ رقم پڑی ہوئی ہے۔اس میں یہ اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔اتنی برکت خدا نے ڈالی ہے کہ جو منصو بہ مالی لحاظ سے پچاس ساٹھ لاکھ روپے پاکستانی سے شروع کیا گیا تھا اس کی آمد مغربی افریقہ میں جہاں کے لئے یہ منصوبہ تھا پانچ کروڑ سے اوپر نکل چکی ہے