خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 397
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۹۷ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۸ء طرح ایک انسان تھے البتہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی تھے اس سے زیادہ کچھ نہ تھے۔حضور نے فرمایا:۔اسلام ایک سچا مذ ہب ہے اور اس کی تعلیم حق و حکمت پر مشتمل دنیا کے لئے سراپا رحمت و برکت ہے۔اس لئے اسلام کی طرف سے کسی مذہب کے ساتھ مداہنت اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسلام کا تو یہ دعوی ہے کہ وہ دنیا کے دل جیتے گا اور جب دنیا کے دل جیت لئے جائیں گے۔تو لوگ اپنے غلط عقائد کو خود بخود چھوڑ دیں گے اور اسلام کے آب حیات سے نئی زندگی پائیں گے۔حضور اقدس نے آخر میں فرمایا :۔دنیا کے دل جیتنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ایک زبردست روحانی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم روشن دلائل اور حج قاطعہ کے ساتھ ، دعاؤں کی قبولیت اور آسمانی نشانوں کے ساتھ ، اخلاق فاضلہ اور نیک نمونہ کے ساتھ ، ایمان کامل اور یقین محکم کے ساتھ اور پیار و محبت کے خلق عظیم کے ساتھ اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دیں۔و باللہ التوفیق۔حضور نے نماز جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کر کے پڑھائی اور پھر مکرمہ اختر النساء ہمشیرہ صاحبہ حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ محترمہ محمودہ آصفه صاحبہ (بنت حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ، ہمشیرہ مکرم داؤد احمد گزار صاحب ساؤتھ ہال لندن اور محترمہ حنیفہ بیگم صاحبہ ہمشیرہ مکرم محمد شریف صاحب اشرف لندن کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔مرحومات پاکستان میں انتقال کر گئی تھیں۔(روز نامه الفضل ربوہ ۱۹ / جولائی ۱۹۷۸ ء صفحہ ۵،۲)