خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 25
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۵ خطبہ جمعہ ۲۸ جنوری ۱۹۷۷ء شکار ہو جائیں اور حقیقی اسلام کو پیش کرنے کے لئے کسی کو ہمارے لئے کھڑا کیا جائے بلکہ ہمیں چوکس اور بیدار رہ کر حقیقی اسلام کی جو باتیں ہیں، قرآن کریم میں ذاتِ باری اور صفات باری کے متعلق ہمیں جو علم دیا گیا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بلند مرتبہ بتایا گیا ہے ، قرآن کریم کی جو عظیم شان ہمارے سامنے رکھی گئی ہے اس کو دہراتے رہنا چاہیے۔قرآن کریم بڑی ہی عظیم کتاب ہے۔ہم اس کے متعلق جتنا سوچتے ہیں اتنا ہی ہم اس کو بلند سے بلند تر پاتے ہیں اور اس کی خوبیوں کا اور اس کی گہرائی کا اور اس کی رفعت کا اور اس کی وسعت کا انسانی دماغ اندازہ نہیں کر سکتا۔یہ خدا کا کلام ہے اس لئے غیر محدود برکات اور غیر محمد ود صفات کا حامل ہے اور غیر محدود بطون اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔یہ انسان کا کام نہیں کہ اس کی حد بندی کرے لیکن انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کو مہجور نہ بنائے اور اس کی تعلیم کو نہ بھلائے کیونکہ یہ ایک ایسی بھول ہے جس سے نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور علاقے کے علاقے مردہ ہوجاتے ہیں۔تب انہیں از سر نو زندہ کرنے کے لئے اور انہیں از سر نو انسانی شرف عطا کرنے کے لئے ایک دوسرا ذیلی نظام حرکت میں آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے ذمہ جو کام ہے وہ ایک تسلسل کو چاہتا ہے۔جو مصلح آتے ہیں وہ کلی طور پر تو نہیں لیکن ایک حد تک تسلسل ٹوٹنے کے بعد آتے ہیں۔ہمارے سپر د جو کام ہے اسے مسلسل حرکت میں رہنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔ہم کسی جگہ کھڑے نہیں ہو سکتے۔پیچھے ہٹنے کا تو سوال ہی نہیں۔اس لئے جہاں اور بہت سے نظام قائم کئے گئے مثلاً تحریک جدید ہے، وقف جدید ہے، وہاں وقف عارضی بھی ہے اور ہزار قسم کی کوششیں ہیں جو جماعت کے اندر جاری ہیں تا کہ جماعت اپنے مقام کو یادر کھے اور مقام یہ ہے کہ قرآن کریم کو دنیا میں پھیلانے کی ذمہ داری ان کے اوپر عائد ہوتی ہے مگر دوست اس بات کو نہ بھولیں کہ قرآن کریم کو پھیلانے کی جو ذمہ داری ہے وہ تقاضا کرتی ہے کہ قرآن کریم کو پھیلانے سے پہلے ہم خود اسے جاننے والے ہوں، اس کے علوم سے واقف ہوں۔دوسروں کو یہ کہنے سے پہلے کہ بڑی حسین اور عجیب تعلیم ہے اس پر عمل کرو خود اس پر عمل کرنے والے ہوں۔دوسروں کو یہ کہنے