خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 366
خطبات ناصر جلد ہفتم ٣٦٦ خطبه جمعه ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۸ء غیر ممالک بھی پیدا کر رہے ہیں۔ہمارے انگلستان کے مبلغ آرچرڈ صاحب انہوں نے تعلیم حاصل کی اور وہ با قاعدہ واقف زندگی مبلغ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ رضا کارانہ طور پر کام کرنے والوں میں تو اس وقت میرے خیال میں درجنوں ممالک شامل ہو چکے ہیں۔وہ لوگ عملاً واقفین زندگی ہیں لیکن جماعت سے گزارہ نہیں لیتے۔وہ ساتھ اور بھی کام کرتے ہیں لیکن گھنٹے ، گھنٹے، ۸ گھنٹے روزانہ تبلیغ اسلام کا کام کر رہے ہیں۔ہمارے ان بھائیوں کا کام ایک رنگ میں فرض کفایہ سمجھا جا سکتا ہے لیکن اصل میں تو یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی روشنی کو دنیا میں پھیلائے لیکن چونکہ سب لوگ نہیں کر سکتے اس لئے قرآن کریم نے کہا ہے کہ کچھ لوگ مرکز میں آیا کرو اور دین سیکھا کرو اور پھر اپنے علاقوں میں جا کر دین کو پھیلاؤ۔ہمارے یہ بھائی جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دے کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف اور جو را ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معین کی ہیں جن پر آپ کے اسوہ کے نقش قدم ہمیں نظر آتے ہیں ، جو راہیں خدا تعالیٰ کی محبت اور رضا کی طرف لے جانے والی ہیں ان راہوں کی طرف غیر مسلموں کو پیار اور محبت کے ساتھ اور دلائل کے ساتھ اور دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ لانے والے ہیں ان کا ہم پر یہ واجب حق ہے کہ ہم ان کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہیں۔ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے لیکن ان تھوڑوں اور کمزوروں اور غریبوں اور بے کسوں اور بے سہاروں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ حیرت انگیز طور پر ایک انقلاب عظیم بپا کر رہا ہے لیکن وہ نہ میری کسی خوبی کا نتیجہ ہے نہ آپ کی اور نہ ان مبلغین کی وہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔لیکن بہر حال یہ مبلغ نمایاں ہوکر اور ممتاز حیثیت میں ایک واقف زندگی کے طور پر غیر ممالک میں کام کرتے ہیں پھر کچھ عرصہ کے لئے یہاں آجاتے ہیں پھر دو چار مہینے کی چھٹی گزار کر یہاں کام کرتے ہیں اور پھر وہ مختلف ممالک میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہاں بھی واقفین زندگی ہیں جو کہ اصلاح اور تربیت کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے اور روح القدس سے ان کی مددکرتا رہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی حفاظت میں رہیں اور ہر شر سے خدا تعالیٰ انہیں محفوظ رکھے اور ہر خیر کے