خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 358
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۵۸ خطبه جمعه ۳۱ / مارچ ۱۹۷۸ء اجتماعی زندگی میں ہمیں اطمینان کا فقدان نظر آتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انہیں دنیا سے بہت کچھ ملا لیکن ان کو اطمینان قلب حاصل نہیں ہوا اور وہ اس کی تلاش میں ہیں۔اگر انسان سوچے تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہی انسان کو مطمئن کر سکتی ہے اور اس کے دل میں اطمینان پیدا کر سکتی ہے۔انسان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے تسکین قلب حاصل ہوسکتی ہے۔ایک دوسری جگہ انسانی زندگی پر نماز اور نماز با جماعت کے اثرات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ (العنکبوت : ۴۲) یہ جو خدا تعالیٰ کا ذکر ہے سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مؤثر نیکی ہے۔خدا تعالیٰ کا ذکر سب سے زیادہ قائل کرنے والی چیز ہے۔خدا سے دوری کی لعنت سے بچانے والی چیز ہے۔”ذکر“ کے معنے ہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا۔اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے جو انعامات نازل ہوتے ہیں ہم اُن پر غور کریں۔ہم اپنی بے کسی کو سامنے رکھیں اور اس کی نعمتوں پر توجہ دیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل کیا ہے۔ہماری زندگی کی کوئی ایک بھی ساعت ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہم پر نازل نہ ہورہی ہو۔ایک یا دو رحمتوں کا سوال نہیں بلکہ ہر آن اور ہر گھڑی اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہم پر نازل ہورہی ہیں اور میں یہ جو کہتا ہوں کہ ہر گھڑی اور ہر آن بے شمار رحمتیں نازل ہو رہی ہیں تو اس میں میں کوئی مبالغہ نہیں کر رہا۔یہ ایک حقیقت ہے جس کی وسعتوں کا ہمارے الفاظ احاطہ نہیں کر سکتے حقیقت اس سے بھی زیادہ ہے جتنی ہم بیان کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ( الجاثية : ۱۴) فرمایا اس کائنات کی ہر شے کو انسان کی خدمت پر لگا دیا ہے اور اس میں کوئی استثنا نہیں ہے ہر شے بلا استثنا انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہے۔دنیا کی ہر چیز کی زندگی کا ہر پہلو خدا تعالیٰ کے حکم کا محتاج ہے۔مثلاً درختوں میں سے ان درختوں کو لیں ، جو پت جھڑ کرتے ہیں۔پت جھڑ کرنے والے درختوں میں سے ان کو لیں جو موسم خزاں میں پت جھڑ کرتے ہیں۔موسم خزاں میں پت جھڑ کرنے والوں میں سے صرف شیشم کے درخت کو لیں۔شیشم کے درختوں میں سے صرف ایک شیشم کے درخت کو لیس اس