خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 352 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 352

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۵۲ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء شعبوں کا خرچ زیادہ ہو جاتا تھا وہ بہر حال مزید رقم مانگتے تھے۔اس واسطے ایک طریقہ یہ رائج کروایا کہ ہر تین مہینے کے بعد تین مہینے کی نسبت سے جو خرچ بچا ہوا ہے وہ اس شعبے سے نکال لو اور ایک ریز رو بنایا کہ اس میں داخل کر دو۔خصوصاً تنخواہوں وغیرہ میں بچت ہو جاتی ہے کہ کوئی آدمی چلا گیا یا کسی نے بغیر تنخواہ کے چھٹی لے لی یا کوئی آسامی خالی پڑی رہی وغیرہ پہلے یہ شکل بنتی تھی کہ بجٹ سے اتنا زیادہ خرچ ہو گیا اور مشاورت میں رپورٹ ہوتی تھی کہ بجٹ مثلاً دس لاکھ کا بنایا تھا اور خرچ بارہ لاکھ ہو گیا (ویسے اب تو بجٹ تحریک جدید کو ملا کر ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ گیا ہے ) غرض اُس وقت بڑی مشکل پڑتی تھی اور جس وقت سے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ان کا ریز رو بنادو اس سال کے بعد سے میرے خیال میں ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ مشاورت کے بنائے ہوئے بجٹ سے مجموعی طور پر خرچ زیادہ ہوا ہو کیونکہ جس شعبے نے کم خرچ کیا اور اسی لئے کم خرچ کیا کہ اس کو ضرورت نہیں تھی یہ نہیں کہ اس کی ضرورت کو مد نظر نہیں رکھا گیا اس سے زائد روپیہ لے کر ریزرو میں ڈال دیا اور جس نے زیادہ خرچ کیا اس ریز رو میں سے اس کو دے دیا اور اس طرح بغیر کسی تکلیف کے بجٹ کے اندر اندر سارا کام ہو جاتا ہے۔شوریٰ ہر سال کچھ زائد آمد کا بجٹ بناتی ہے اور جماعت پر جتنا حسن ظن مجلس شورای بجٹ آمد بناتے ہوئے کرتی ہے اس سے زیادہ آمد جماعت پیدا کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پیسہ ضائع نہ ہو۔جب میں کالج میں تھا تو اس وقت حضرت صاحب ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ) نے مجھے بلڈنگ کے بعض حصوں کے لئے بعض افراد سے چندہ لینے کی بھی اجازت دی تھی۔میں سب کو یہی سمجھاتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں پیسہ بہت دیا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک پیسہ بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں دیا۔اس واسطے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ایک پیسہ، ایک دھیلہ بھی ضائع نہ ہو بلکہ جو پیسہ ملا ہے اس کا صحیح مصرف ہونا چاہیے۔ایک دفعہ میں یہاں سے گاڑی میں جارہا تھا تو اس میں کچھ پڑھے لکھے اچھے عہدیدار بیٹھے ہوئے تھے ، میں سٹیشن سے سوار ہوا۔جب گاڑی چلی تو وہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ یہ بڑے امیر لوگ ہیں یہ دیکھو انہوں نے یہ بنادیا۔سکول آیا