خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 349
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۴۹ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء آئے تو وہ مسلمانوں سے بات نہیں کر سکتے تھے اور اب بھی غریب احمدیوں سے جو اپنے آپ کو بیچ اور نا چیز اور لاشے سمجھتے ہوئے دعاؤں کے ذریعہ خدا سے اس کے فضل ما نگتے ہیں اور اس سے فراست مانگتے ہیں اور اس سے نور علم مانگتے ہیں۔دلائل کے لحاظ سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔بہیں ہیں ، پچھیں چھپیں اور تیس تیس سال کے نوجوان باہر نکلتے ہیں، جب وہ یہاں پھر رہے ہوتے ہیں تو مجھے کئی دفعہ خیال آیا کہ ربوہ کے لوگ نہیں سمجھتے کہ ان کی قدر کیا ہے لیکن جب وہ افریقہ میں جاتے ہیں تو بڑے بڑے فلسفی اور بڑے بڑے عالم ان کے مقابلے میں آتے ہوئے گھبراتے ہیں اور ان سے بات کرتے ہوئے ان کی جان نکلتی ہے۔پس اصل چیز یہ ہے کہ علم کی تلوار کے اندر اتنی تیزی ہو کہ کوئی اور علمی تلوار مقابل پر نہ ٹھہر سکے اور عملی نمونہ ایسا ہو کہ جو ہر ایک کا دل موہ لینے والا ہو کیونکہ جوشخص اسلام لاتا ہے وہ اپنی زندگی چھوڑ کر اسلام لاتا ہے۔اگر ایک شخص پچاس سال کی عمر میں اسلام لاتا ہے تو اس نے جس پچاس سالہ زندگی میں وقت گزارا وہ تو ختم ہوگئی ، اس کو تو ایک نئی زندگی ملے گی ، اس کو تو ایک نئی روح ملے گی جس سے اس کی شکل بدل جاتی ہے، چہرے کے آثار بدل جاتے ہیں۔ہر ہفتے دوست مجھے ملنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔بعض دوست جو ابھی احمدی نہیں ہوئے دوسری تیسری دفعہ بھی آتے ہیں۔چنانچہ کسی کو مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اب یہ احمدی ہو گئے ہیں بلکہ ان کے چہرے کی تبدیلی خود مجھے بتادیتی ہے کہ اب وہ احمدی ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ کو پانے کے بعد ایک نور فراست ان کے چہروں پر چپکنے لگ جاتا ہے اور ایک اطمینان ان کو نصیب ہوتا ہے۔خدا کے بندے کے پاس جو اطمینانِ قلب ہے وہ دنیا کے امیر ترین انسان کے پاس بھی نہیں اور وہ دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور اور صاحب اقتدار انسان کے پاس بھی نہیں۔ان کی دوستیں تو ان کے لئے وبال جان اور ان کا اقتدار ان کے لئے وبالِ جان ہیں۔مگر خدا کا ایک بندہ معمولی کپڑوں میں ملبوس ہے، کوئی اس کو پہچا نتا بھی نہیں سوائے اس کے رب کے اور اس کا دل مطمئن ہے۔اس کے چہرے پر ایمان کی بشاشت ہے اور ایک طمانیت ہے اور اس کو کوئی فکر نہیں۔دنیا اسے پینے میں لگی ہوئی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی حمد کے نعرے لگانے کی سوچ رہا ہوتا ہے۔عجیب قوم بنادیتا ہے خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی۔