خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 347 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 347

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۴۷ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء ایک تو ہمیں دکھاؤ کہ تمہیں کس طرح حاصل ہوا اور دوسرے پھر ہمارے لئے بھی اس کے دروازے کھلنے چاہئیں۔دروازہ کھولنا تو میرا کام نہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے لیکن مشاہدہ کرنا میرا اور آپ کا کام ہے اور ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ عیسائیوں میں سے اور کمیونسٹوں میں سے جولوگ عیسائیت اور کمیونزم کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیئے اور وہ سچی خوا ہیں دیکھنے لگے اور ان کو الہام ہونے شروع ہوئے اور خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے انہوں نے اپنی زندگیوں میں دیکھے اور ایک زندہ خدا سے تعلق انہوں نے اپنی زندگیوں میں محسوس کیا۔جو لوگ اب آئیں گے وہ یہ نہیں کہیں گے کہ ہم ایک کلب کو چھوڑ کر دوسرے کلب میں داخل ہونا چاہتے ہیں بلکہ وہ کہیں گے کہ ہم ایک نظام زندگی کو ( جس سے کہ ہم تنگ آئے ہوئے ہیں ) چھوڑ کرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام زندگی میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ہمیں بتاؤ کہ وہ نظام کیا ہے، ہمیں اس کی تعلیم دو، ہمارے سامنے اس کے نمونے پیش کرو۔یہ جو اجتماعی ذمہ داری ہے اس پر پیسہ خرچ ہو گا۔ان لوگوں کے لئے نئی کتا بیں چھپنی چاہئیں کیونکہ دنیا کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھ کر احمدیوں کی چوتھی نسل کو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد جو چوتھی نسل احمدیت میں داخل ہورہی ہے اس کو ہم نے علم دینا ہے۔ان کو ہم نے قرآن کریم کے حقائق بتانے ہیں۔ان کو ہم نے قرآن کریم کے حسن سے آشنا کرنا ہے، ان کے سامنے ہم نے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو پیش کرنا ہے اور ان کی ہم نے تربیت کرنی ہے۔یہ امر تربیت چاہتا ہے کہ عبادت میں وقت گزارو، خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرو اور اس کی کبریائی کا اعلان کرو، اسی کو سب کچھ سمجھو اور اسی کے لئے ہو جاؤ۔اپنی ساری زندگی اس کے حضور پیش کر دو۔کچھ اس کے سامنے اور کچھ شیطان کے سامنے پیش نہ کرو تقسیم نہ کرو اور اپنی زندگی کے حصے بخرے نہ بناؤ بلکہ سب کچھ خدا کے سامنے پیش کرو اور پھر خدا سے سب کچھ لے لو۔اس اجتماعی کوشش کے لئے پیسے کی ضرورت ہے اور جماعت خدا کے فضل سے بڑی قربانی کرتی ہے۔جماعت میں نئے داخل ہونے والوں کو یا جماعت میں نئے جوان ہونے والوں کو شاید سمجھ نہ آ رہی ہو کہ جماعت کتنی بڑی قربانی دے رہی ہے اور کیوں دے رہی ہے مگر ہمیں تو سمجھ آرہی ہے لیکن جو جماعت سے باہر ہیں ان کو تو