خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 344
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۴۴ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء گزری۔آپ غریب بھی رہے اور آپ محکوم بھی رہے اور آپ کے قدموں میں دنیا کی دولتوں کے انبار بھی جمع ہوئے اور آپ بادشاہ بھی بنے۔مختلف انسانوں کی زندگیاں ہمارے سامنے آتی ہیں آپ ہر پہلو سے ان کے لئے ایک نمونہ بنے۔اس کی تفصیل میں جانا تو مشکل ہے لمبا مضمون ہے۔آپ کا جاگنا ، آپ کا سونا، آپ کا اٹھنا ، آپ کا بیٹھنا ، آپ کا خدا تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنا اور آپ کا انسان کی خدمت میں محور بنا، آپ کا خدا تعالیٰ کی محبت میں تڑپنا اور آپ کا انسان کے دکھوں کو دور کرنے کے لئے اذیت اور تکلیف اٹھا نا غرض کس کس بات کا ذکر کریں آپ ہر پہلو سے ہماری زندگیوں کے لئے ایک کامل نمونہ ہیں اور ہر خیر قرآن کریم سے ہی ملتی ہے۔قرآن کریم سے باہر کوئی خیر ہمیں نظر نہیں آتی۔ہم نے بڑا غور کیا اور بالآخر ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ نیکی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو استعداد میں اور صلاحیتیں ہر فرد کو دی ہیں ان کی صحیح نشو ونما ہو۔اس نشو ونما کے لئے ایک تو فرد کی اپنی کوشش ہے لیکن قرآن کریم سے ہمیں پتا لگتا ہے فرد کی اپنی کوشش ہی کافی نہیں اگر وہ کافی ہوتی تو تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المآئدة : ۳) کا حکم نہ دیا جاتا۔پس چونکہ فرد کی اپنی کوشش کافی نہیں اس لئے کہا گیا کہ پر اور تقویٰ میں آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔انسان کو جو صلاحیتیں دی گئی ہیں ان کی معراج ، ان کا آخری نقطہ جو بلندیوں کی طرف ختم ہوتا ہے وہ انسان کا روحانی ارتقاء ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے قرب پر منتج ہوتا ہے اور جس کے نتیجے میں اسے اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے۔اس لئے ہر قسم کی صلاحیتیں جن میں روحانی صلاحیتیں بھی شامل ہیں اور باقی قوتیں اور استعدادیں جن کا تعلق انسان کے جسم کے ساتھ ہے یا اس کے ذہن اور فراست کے ساتھ ہے یا اس کے اخلاق کے ساتھ ہے وہ سب روحانی نشو ونما کے لئے مد اور معاون ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ محض فرد فرد کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ اجتماعی ذمہ داری بھی ہے اور ہماری جماعت کی اجتماعی ذمہ داری یا ہماری جماعتی ذمہ داری محض یہ نہیں ہے کہ ہم چندے ادا کریں اور بس۔بلکہ چندے تو ہم کسی غرض کے حصول کے لئے خدا کی راہ میں دیتے ہیں۔چندے یعنی اپنے مال کے کچھ حصے ہم خدا کی راہ میں اس لئے دیتے ہیں کہ ہمیں جو کہا گیا ہے کہ بچوں کی تربیت کا خیال