خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 331
خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۷۸ء کبھی قرضے روک کر دکھ کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں اور کبھی قرضے دے کر دکھ کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں۔غرض جس طرح ایک مردہ لاشہ سے تعفن کی بدبو آتی ہے اسی طرح اس دنیوی زندگی سے بھی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کے بغیر زندہ ہے ہمیں تعفن کی بدبو آتی ہے وہ زندگی زندگی نہیں۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے جیسا کہ میں نے بتایا دل پاک ، زبان پاک اور عمل پاک ہوئے۔ایک ایسی زندگی ملی انسان کو، اسے ایک ایسا انسان بنادیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اسے کہا کہ خدا کی کسی مخلوق کو بھی تیرے ہاتھ سے دکھ نہ پہنچے، خدا کی کسی جذ بہ رکھنے والی مخلوق کو تیری زبان سے جذباتی اذیت نہ پہنچے اور تو کسی کے لئے بھی بدی اور شرارت اور دشمنی کا خیال اپنے دل میں نہ رکھ۔یہ زندگی ہے جو خدا کی نگاہ میں عزت کی زندگی ہے اور ہر سمجھ دار انسان کی نگاہ میں بھی یہ عزت کی زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو قائم رکھنے کے لئے گزشتہ چودہ سو سال میں اسلام میں جو بزرگ آتے رہے اور اب ایک عظیم انسان جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عکس کامل کے طور پر مبعوث ہوئے یعنی مہدی علیہ السلام انہوں نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرو اور جلا ؤ سب کمندوں کو۔جب خدا تعالیٰ مل جائے تو پھر اور کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔پس ہمیں علی وجہ البصیرت ان چیزوں کو سمجھ کر اور ان کی عظمت کو جانتے ہوئے اور ان کے فوائد کو پہچانتے ہوئے اور بنی نوع انسان کی نجات اس میں سمجھتے ہوئے ان راہوں کو اختیار کرنا چاہیے تا کہ خدمت کی جو ذمہ واریاں ہم پر ڈالی گئی ہیں ہم ان کو نباہنے والے ہوں۔آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )