خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 325

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۲۵ خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۷۸ء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے منہ موڑ کر اور آپ کے مقابلے میں کھڑا ہو کر اور آپ کے خلاف نشوز کی راہ اور استکبار کی راہ اور خودی کی راہ کو اختیار کر کے نہیں مل سکتی۔اب جو کچھ مل سکتا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی مل سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمتہ للعالمین ہیں ان کی ذات ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان کھڑی ہوگئی ہے بلکہ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کے ذریعے اور آپ کے اُسوہ کے طفیل انسان پر اپنے رب تک پہنچنے کے لئے اور وصال باری کے لئے ایک بہت بڑی شاہراہ کھولی گئی ہے اور جو تنگ راہیں پہلے زمانوں میں تھیں انہیں کشادہ کر دیا گیا ہے اور جو عام راستے تھے انہیں شاہرا ہیں بنا دیا گیا ہے۔قرآن کریم نے یہ اعلان کیا ہے کہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو تو تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر لو گے۔اور جنہوں نے چوبیس گھنٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کیا اور آپ کی زندگی کا مشاہدہ کیا انہوں نے اسوۂ رسول کے متعلق ہمیں یہ بتایا کہ گانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن قرآن کریم کے ہر حکم کی پیروی اسوۂ رسول ہے۔آپ کا اسوہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو کہا وہ آپ نے کر دکھایا۔آپ نے انسان کو دو باتیں بتائیں ایک تو یہ کہ میری پیروی کرتے ہوئے تمہیں بھی قرآن کریم کے ہر حکم کی اتباع کرنی پڑے گی اور دوسرے یہ کہ یہ انسان کے لئے کوئی ناممکن بات نہیں ہے بلکہ انسان کو اس کی طاقت دی گئی ہے۔جو دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کر آئے وہ دین فطرت ہے۔پس یہ دین اور جو فطرت انسان کو دی گئی ہے وہ فطرت اور جو قوانین عالمین کام کر رہے ہیں جن کو ہم قانون قدرت بھی کہتے ہیں یا صوفیاء اور عارفین کی اصطلاح میں جنہیں ہم خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں کا نام دیتے ہیں یہ سب ایک ہی چیز سے وابستہ ہیں۔یہ ایک ایسا طقی Whole ( ہول) ہے جس کے اندر کوئی رخنہ نہیں اور اس کی وجہ سے انسان کو فطری طور پر یہ طاقت ملی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر سکے۔قرآن کریم نے ایک طرف تو یہ زور دیا کہ قرآن کریم کے تمام احکام کو مشعل راہ بناؤ اور ان پر عمل کرو جس طرح کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر عمل کیا اور دوسری طرف اس بات پر زور دیا کہ