خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 318 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 318

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۱۸ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء بچیاں غیر حاضر ر ہیں لیکن کام پھر بھی پوری طرح تسلی بخش ہو گیا۔کام تو ہو جاتے ہیں یہ خدا کے کام ہیں۔چنانچہ کام ہو جانے کی وجہ سے ہمیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔مگر پھر بھی ہمیں یہ تکلیف پہنچی کہ جو بچیاں غیر حاضر رہیں وہ ثواب سے محروم ہو گئیں اور اسی طرح جو بچے یا جوان یا بڑے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے وہ ثواب سے محروم ہو گئے۔ہماری خواہش ہے کہ انہیں بھی ثواب ملے اور ر وہ بھی باقیوں کے ساتھ ثواب پانے میں شریک ہوں۔جو چیز ہمیشہ رہنے والی ہے وہ ہے وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ که حى و قيوم خدا جو زندہ ہے اور زندگی بخش ہے جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور جس میں کوئی عیب نہیں ہمیں اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اسی سے دعائیں مانگنی چاہئیں اور اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے ہمیں اسی کی طرف جانا چاہیے کیونکہ سوائے اس کے اور کوئی ہستی نہیں جانتی کہ گناہ کس نے اور کتنا کیا۔دوسرے تو عیب لگانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور الزام تراشی کرتے ہیں مگر گناہ کا حقیقی علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں ہے کیونکہ گناہ ہے ہی یہ چیز کہ اس کی نظر سے انسان گر جائے اور کسی کو کیا پتا کہ خدا کی نظر سے کون گرا اور کتنا گرا اور کتنی ناراضگی پیدا ہوئی۔اس واسطے جو کمیاں رہ گئیں، جو کوتاہیاں ہو گئیں ہم سے یعنی آنے والوں سے بھی اور یہاں کے مکینوں سے بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کو دور کرے اور کمزوری کی جگہ طاقت پیدا کرے اور وقتی طور پر جو کمزوری ہوگئی ہے اس کے بداثرات سے جماعت کو محفوظ رکھے۔خدا کرے کہ اس کی رضا ہمیشہ جماعت کو حاصل رہے۔خدا تعالیٰ کی ذات تمام صفات حسنہ سے متصف اور بے عیب اور پاک اور مقدس ذات ہے۔ہر تعریف اسی کی طرف رجوع کرتی ہے کیونکہ کوئی قابل تعریف کام کیا ہی نہیں جاسکتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کام کی توفیق نہ عطا کرے۔پس جب خدا تعالیٰ کی توفیق ہی سے قابل تعریف اعمال بجالائے گئے تو ہمیں خدا تعالیٰ ہی کی حمد کرنی چاہیے نہ یہ کہ انسان خود اپنے پہ فخر کرنے لگے اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگے۔پس خدا تعالیٰ کی حمد کرنی چاہیے اور کثرت سے کرنی چاہیے۔مثلاً اس جلسہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے جو فضل جماعت پر نازل ہوئے اور اس کی رحمتیں بارش کی طرح آسمانوں سے برسیں ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اگلے جلسہ تک اسی کے متعلق خدا تعالیٰ کا شکر کرتے رہیں اور