خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 317
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۱۷ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء تجربہ اور روایات میں جن کو Traditions (ٹریڈیشنز ) کہتے ہیں میں بڑی برکت ہے۔روایت کا مطلب ہے کہ جو اچھی چیز سیکھ لی اسے بھولو نہ۔دو چیزیں مسلسل چلتی ہیں ایک تو یہ کہ جو اچھی چیز انسان ایک دفعہ سیکھ لے اُسے بھولنا نہیں چاہیے اور دوسرے یہ کہ جو اچھی چیزیں وہ سیکھ چکا ہے ان کو کافی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ مزید اچھی چیزیں سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔زمانے کے ساتھ ساتھ انتظام میں تبدیلی پیدا ہو چکی ہے، بہت سی سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں اور جماعت میں خدا تعالیٰ نے کچھ روایتیں پیدا کر دی ہیں جن پر جماعت چل رہی ہے، تاہم روٹی کے سلسلہ میں ایک دقت ہے اور اس سال بھی اس بارہ میں میرے پاس شکایتیں پہنچی ہیں۔جب بہت بڑی تعداد میں روٹی پکے گی تو اس پر بہر حال کچھ وقت لگے گا اور تقسیم سے کچھ دیر پہلے روٹی پکانی پڑے گی۔چنانچہ جو روٹی آپ کو شام سات یا آٹھ بجے ملتی ہے اس کا ایک حصہ تین بجے پک چکا ہوتا ہے۔غالباً دو اور تین بجے کے درمیان کسی وقت یہ مشینیں چلاتے ہیں۔چنانچہ روٹی کسی قدر باسی ہو جاتی ہے اور پھر ان کو اوپر نیچے رکھتے ہیں تو ان میں سے جو بھاپ نکلتی ہے اس کی وجہ سے ان میں نرمی آ جاتی ہے اور شکایت یہ پیدا ہوتی ہے کہ روٹی کچی ہے حالانکہ روٹی کچی نہیں ہوتی۔اگر وہی روٹی ان کو اسی وقت گرم گرم مل جاتی تو وہ کہتے کہ کمال ہو گیا ہے، اتنی اعلیٰ درجے کی روٹی پک رہی ہے کہ کوئی حد نہیں۔لیکن روٹی اوپر نیچے تھوں میں پڑی رہتی ہے اور بھاپ کی وجہ سے نرم ہو جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچی ہے حالانکہ وہ کچی نہیں ہوتی۔لیکن بہر حال اصل چیز تو احساس ہے اس لئے کوئی ایسا انتظام کرنا پڑے گا کہ روٹی میں آٹے کے علاوہ کچھ اور صحت مند اجزاء بھی ڈالے جائیں جن سے روٹی جلد خراب نہ ہو۔دنیا ایسا کر رہی ہے اور مجھے امید ہے کہ ۵ - ۱۰ سال تک ہمارے ہاں بھی اس کا انتظام ہو جائے گا اور پھر یہ شکایت باقی نہیں رہے گی تاہم اس وقت شکایت ہے اور ہمیں افسوس ہوتا ہے کیونکہ اگر کسی کو تکلیف ہو تو اس کے لئے ہمارے دل میں بھی تکلیف پیدا ہوتی ہے۔اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جلسہ سالانہ پر رضا کار کافی تعداد میں آجاتے ہیں اور پھر وہ کافی تعداد میں اپنے دوسرے کاموں میں بھی مشغول ہو جاتے ہیں۔لجنہ کی طرف سے ایک رپورٹ یہ تھی کہ بہت سی رضا کار