خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 316
خطبات ناصر جلد ہفتم ٣١٦ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہم ایک کی بجائے دو روٹیاں کھانے کی خاطر جلسہ کے اوقات بدل دیں یا آج کا جلسہ ملتوی کر دیں بلکہ ہم سب ایک ایک روٹی کھائیں گے۔جن کے گھروں میں روٹی پکتی ہے وہ بھی ایک روٹی کھائیں گے اور جن کو لنگر سے ملتی ہے وہ بھی ایک روٹی کھائیں گے اور میں نے کہا کہ گھروں میں جو روٹیاں بچیں وہ لنگر کو بھیج دو۔خدا کی عجیب شان اس جماعت میں نظر آتی ہے سب نے ایک ایک روٹی کھائی۔وہ وقت گزر گیا لیکن مجھے پتالگا کہ ہزاروں آدمیوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہو کہ کھانے کی کمی کے نتیجہ میں جلسہ میں کوئی بدنظمی پیدا ہوگی تو یہ تو نہیں ہوسکتا مگر اب ہم پریکٹس کرتے ہیں اور سارے جلسہ کے دوران ہی ہم ایک ایک روٹی کھائیں گے۔چنانچہ پھر روٹی پکنی شروع ہوگئی لیکن بہتوں نے کہا کہ ہم ایک ہی روٹی کھا ئیں گے اور بہت سے گھر والوں نے کہا کہ گواب ضرورت تو نہیں ہے مگر ہم ثواب سے کیوں محروم رہیں ہم اب بھی روٹیاں پکا کر انتظام جلسہ کو بھیجیں گے۔دعا کریں کہ روک جلد دور ہو جائے اور ہمارا چوتھا لنگر بھی سوئی گیس استعمال کرنے لگے۔منتظمین سے میں کہتا ہوں کہ وہ روٹی پکانے کی مشینوں کے متعلق سکیم بنائیں اور مجھے بتا ئیں کہ کتنی اور مشینیں چاہئیں تا کہ اگلے جلسہ سالانہ تک وہ مشینیں بن جائیں۔پہلی مشینیں بہت سستی بن گئی ہیں۔ہمارے احمدی انجینئر زکو اللہ تعالیٰ جزا دے انہوں نے اس سلسلہ میں بڑا کام کیا ہے اور بہت آرام ہو گیا ہے۔تنوروں میں اس قدر تعداد میں روٹی پکانا بہت مشکل تھا۔ہمارے بہت سے مہمان ایسے ہوتے ہیں جو باہر سے کھانا کھا لیتے ہیں۔مثلاً کسی نے دو پہر کا کھانا بازار سے کھالیا، کسی نے شام کا بازار سے کھا لیا۔ایک چکر ہوتا ہے اور میرا اندازہ ہے کہ ایک تہائی مهمان باری باری اس چکر میں باہر کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اور دو تہائی مہمانوں کا بارلنگر پر ہوتا ہے۔چنانچہ اگر ڈیڑھ لاکھ مہمان ہوں تو ایک لاکھ کا کھانالنگر میں پچکے گا اور عام طریق پر نان بائیوں کے لئے ایک لاکھ آدمی کی روٹی پکانا بہت مشکل ہے، وہ یہ کر ہی نہیں سکتے۔چنانچہ اگر خدا تعالیٰ وقت پر ہمارے ہاتھ سے یہ انتظام نہ کروا دیتا کہ مشینیں لگ جائیں تو جلسہ سالانہ کی روٹی نہیں پک سکتی تھی۔