خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 301
خطبات ناصر جلد ہفتم ٣٠١ خطبہ جمعہ ۱۶ / دسمبر ۱۹۷۷ء ہوتا ہے کہ پھر وہ دیوالیہ ہو جاتے ہیں کیونکہ جب لوگوں کو پتہ لگتا ہے کہ مثلاً ہلدی کے علاوہ اس میں مضر صحت چیزیں بھی پڑی ہوئی ہیں تو لوگ ایسا مال نہیں خریدیں گے۔آج کی دنیا میں ترقیات کا ایک بہت بڑا حصہ بین الاقوامی تجارت سے وابستہ ہے اور بین الاقوامی تجارت صرف ساکھ پر قائم ہے مثلاً یہاں کا آدمی انگلستان سے مال منگواتا ہے اور انگلستان والا پاکستان سے مال منگواتا ہے یا اس سے بھی دور دراز کے علاقے ہیں وہاں سے سامان آتا اور جاتا ہے۔اگر اس میں دیانتداری سے کام نہیں لیا جائے گا تو شاید عارضی طور پر کچھ فائدہ ہو جائے لیکن انجام کار پریشانیاں اٹھانی پڑیں گی۔انکوائریاں ہوں گی۔مقدمے چلیں گے۔پس مستقل کامیابی اس قسم کی بددیانت تجارت میں ہمیں نظر نہیں آتی۔تجارت کے لئے فراست کی بھی ضرورت ہے اور یہ تو ہے ہی اللہ کی عطا اور دعا ہی سے مل سکتی ہے یا دعا سے قائم رہ سکتی ہے۔ایک بزرگ صحابی جو کسی زمانے میں مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں پیٹ پر پتھر باندھ کر پھرتے تھے مگر بعد میں ان کے اموال میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت ڈال دی اور وہ اسی کتاب کی وجہ سے تھی جسے خدا تعالیٰ نے نازل کیا اور فرمایا فِيهِ ذِكْرُكُم اس میں تمہاری بزرگی اور شرف کے سامان رکھے گئے ہیں۔پس صحابہ رضوان اللہ علیہم کو جو بزرگی اور عزت حاصل ہوئی تھی وہ اس کتاب کے ذریعہ ملی تھی۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اور خدا سے برکات حاصل کر کے تجارت میں بھی فراست پائی تھی چنانچہ اس بزرگ صحابی کے متعلق آتا ہے کہ جب مدینہ میں اموال آئے اور وہاں بڑی دولت جمع ہوگئی اور تجارت کی ایک بہت بڑی منڈی بن گئی تو اس منڈی میں ایک صبح کو کچھ تجار ایک لاکھ اونٹ لے کر آگئے تو انہوں نے جا کر سودا کر لیا۔ان کے دوست ایک اور صحابی نے کہا میں باہر گیا ہوا تھا میں نے ان اونٹوں کو باہر دیکھا تھا لیکن چونکہ اس بات کی اجازت نہیں کہ منڈی میں آئے بغیر سودے ہوں اس لئے میں نے ان سے کوئی بات نہیں کی لیکن میری نیت یہ تھی کہ جب یہ اونٹ منڈی میں آجائیں گے تو میں خریدوں گا لیکن تم پہلے پہنچ گئے اس لئے تم نے خرید لئے۔انہوں نے کہا کہ اب تم لے لو۔کہا کس دام پر۔بولے جس دام میں میں نے لئے ہیں سوائے اس کے کہ ان کی نکیلیں مجھے دے دو۔