خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 300
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۰۰ خطبہ جمعہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۷ء پر خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں کھولنے والی ہوں اور خدا سے دور لے جانے والی نہ ہوں۔پس تم دعا کرو کہ حقیقی معنے میں جو حسنات ہیں وہ تمہیں ملیں یعنی محض کوشش اور تدبیر ہی نہ کرو بلکہ دعا بھی کرو۔چنانچہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے الفاظ میں خدا نے خود ہی دعا بھی سکھا دی اور چونکہ دنیا کی اس مختصر سی زندگی کے بعد ایک نہ ختم ہونے والی اُخروی زندگی ملنی ہے اس لئے ساتھ ہی فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً اُخروی حسنات کے ملنے کا بھی ذکر کر دیا اور پھر وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے الفاظ میں اخروی زندگی کی تکالیف سے بچنے کا بھی ذکر ہے۔بہر حال جب ہم دنیوی لحاظ سے سوچتے ہیں تو اسلامی تعلیم ہمارے لئے دنیوی حسنات اور شرف اور بزرگی کے سامان پیدا کرتی ہے بشرطیکہ انسان کی تدابیر دعاؤں کی بنیاد پر استوار ہوں۔دنیوی حسنات میں سے مثلاً تجارت ہے۔اسلام میں تجارت کے جو اصول بتائے گئے ہیں ان پر عمل پیرا ہو کر تجارتیں کامیابی سے چلتی ہیں۔اگر چہ کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت تو دعا ہے لیکن اس کے جو دوسرے اصول بتائے گئے ہیں ان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔مثلاً دیانت داری ہے اسلام نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ لین دین میں دیانت داری سے کام لو اور کوئی کھوٹ نہ ہو نہ طبیعت میں کھوٹ ہوا اور نہ مال میں تو اس سے تجارت خوب چہکتی ہے۔چنانچہ دنیا کی تجارت کی تاریخ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تجارت میں وہی افراد اور قومیں کامیاب نظر آتی ہیں جن کی ساکھ قائم تھی۔وہ جو کچھ کہتے تھے اس کے مطابق مال سپلائی کرتے تھے لیکن اگر یہ ساکھ نہ ہو تو تجارت چل نہیں سکتی۔مثلاً چند دن ہوئے اخبار میں یہ خبر آئی تھی کہ فیصل آباد میں حکومت نے مسالے بنانے والی ایک کمپنی پر چھاپہ مارا تو اخبار کے کہنے کے مطابق انہیں پتا لگا کہ ایک من ہلدی میں صرف تین سیر ہلدی ہے اور باقی گند ڈالا ہوا ہے۔پس یہ جو تجارتی بددیانتی ہے اور اشیاء خوردنی میں کھوٹ کی ملاوٹ ہے اس سے تجارت چمکتی نہیں۔اسی لئے جن خطوں میں تجارتی لحاظ سے بددیانت دماغ ہیں ان کی تجارت کا گراف اس طرح بنتا ہے کہ شروع میں وہ بڑی دیانتداری کے ساتھ اچھی طرح گا ہکوں کو دیتے ہیں لیکن جب ان کی تجارت چمک اٹھتی ہے تو پھر وہ دھوکا دہی کے ذریعہ سے پیسے کمانے لگتے ہیں۔نتیجہ یہ