خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 17
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۷ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۷۷ء دامن کو اپنے ہاتھ سے چھوڑنے والے نہ ہوں۔تاہم اس وقت میں دعا کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور جسمانی اسباب کو پیدا کیا اور ان کو قضا و قدر سے باندھ دیا اسی طرح روحانی اسباب بھی ہیں وہ لوگ جو جسمانی اسباب کا اور مساوی اسباب کا تو ذکر کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں، بیماری کی حالت میں دوائیں استعمال کرتے ہیں بھوک ہو تو کھانا کھاتے ہیں لیکن جو روحانی اسباب ہیں ان کے وہ منکر اور ان کی اہمیت سے غافل اور ان سے لاعلم ہیں ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں بلکہ ہم ظاہری سامانوں کو بھی اسی طرح خدائی تقدیر کے ساتھ بندھا ہوا پاتے ہیں جس طرح کہ روحانی سامانوں اور اسباب کو خدائی تقدیر کے ساتھ بندھا ہوا پاتے ہیں اور جو روحانی اسباب ہیں ان میں سے ایک بڑا سبب دعا ہے۔ہم دعا پر ایمان لاتے ہیں۔اس معنی میں کہ جب خدا تعالیٰ محض اپنے فضل اور اپنی رحمت سے اپنے بندوں کی دعا کو قبول کرتا ہے تو اس کا اثر اس سے زیادہ ہوتا ہے جتنا کہ مثلاً پیٹ بھر نے کے ظاہری سامان کا اثر ہوتا ہے کہ روٹی کھا کر ایک سیری حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ سیری جو غذا سے ہمیں حاصل ہوتی ہے اس کا تعلق اس دنیوی زندگی کے ساتھ ہے لیکن یہ سیری جو دعا کے ذریعے ہمیں حاصل ہوتی ہے اس کا تعلق اس زندگی کے ساتھ بھی ہے اور اُس زندگی کے ساتھ بھی۔یہ عقیدہ رکھنا جو اسلام نے ہمیں سکھایا ہے بڑی برکات کا موجب ہے۔اُمت محمدیہ کی تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو اللہ تعالیٰ کے جو فضل امت محمدیہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل نازل ہوئے ان فضلوں کو جذب کرنے والی ایک بہت بڑی چیز ، ایک بہت بڑا سبب ہمیں دعا نظر آتی ہے۔دعا کے اثر سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں اور عرب والوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب عظیم بر پا کر دیا تھا۔وہاں آپ کے پاس کوئی ظاہری سامان تو نہیں تھے لیکن اس روحانی ہتھیار کے ساتھ یعنی دعاؤں کے ساتھ جو آپ نے ان لوگوں کے لئے کیں اور نوع انسانی کے لئے کیں ان میں ایک زندگی پیدا کر دی۔مُردہ لاشے تھے وہ جنہیں زندہ کہنا بھی زندگی کی تحقیر کرنا ہے ان لاشوں میں ایک زندگی پیدا کی ، ایسی زبر دست زندگی کہ دنیا نے اس قسم کی حیات،