خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 285
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۸۵ خطبہ جمعہ ۲۵ نومبر ۱۹۷۷ء ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کو رہائش کی تنگی نہیں آنے دیں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔تیسری بات جلسہ کے لئے رضا کار میزبانوں کے متعلق ہے۔جلسہ کا جو اپنا انتظام ہے، اس کا جو دفتر ہے اس میں تو میرے خیال میں دو چار آدمیوں سے زیادہ کا رکن کام نہیں کرتے اور دو چار آدمی ایک لاکھ کے قریب مہمانوں کی مہمان نوازی تو نہیں کر سکتے۔یہ بھی خدا تعالیٰ نے بہت برکتوں کے سامان پیدا کئے ہیں کہ غالباً جب سے ہمارا جلسہ شروع ہوا ہے احمدی خدا تعالیٰ سے رضا کارانہ خدمت کی توفیق پاتے رہے ہیں اور پاتے ہیں اور پاتے رہیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔جب میں چھوٹا تھا ، اتنا چھوٹا کہ اپنی عمر کے لحاظ سے ابھی کام کرنے کے قابل نہیں تھا اور میں ساری دنیا کو کام کرتے دیکھتا تھا تو میرے بچپنے کے ذہن میں یہ بات آتی تھی کہ مجھے بھی کام کرنا چاہیے۔بہت سے بچے میں نے دیکھے ہیں کہ وہ شوق سے کام پر چلے جاتے ہیں حالانکہ ان کی عمر ا جازت نہیں دے رہی ہوتی لیکن جو ذہین منتظم ہے وہ ان کو ایسے کام پر لگا دیتا ہے کہ بچے بھی خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارا بھی کچھ حصہ ہو گیا۔چنانچہ مجھے ہمارے ماموں حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھ رکھ لیتے تھے اور دفتر میں بٹھا لیتے تھے کبھی کہیں بھیج دیا کہ جاؤ یہ خط دے آؤ کبھی کہا کہ فلاں چیز دیکھ آؤ۔اس قسم کا کام مجھ سے لے لیتے تھے اور میں بھی خوش ہو جاتا تھا اور جلسہ سالانہ کا کام کرنا بڑی برکتوں کا باعث ہے۔پہلے قادیان میں جلسہ ہوتا تھا اور قادیان کی آبادی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی پھر وہ ہمیں چھوڑنا پڑا۔پھر ایک سال لاہور میں جلسہ ہوا اور اس کے بعد یہاں آکر خیمے لگائے ، پھر کچے مکان بنے اور اب تو یہ ماشاء اللہ اچھا خاصا بڑا اور خوبصورت قصبہ بن گیا ہے لیکن جس سرعت کے ساتھ جلسہ کے مہمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس سرعت کے ساتھ ہمارے بچوں کی تعداد نہیں بڑھ رہی اور زیادہ تر انہی میں سے ہم نے رضا کار لینے ہوتے ہیں۔اس لئے اب کچھ عرصہ سے رضا کار کارکن دوحصوں میں بٹ گئے ہیں ایک وہ رضا کا رجور بوہ جلسہ کے نظام کو پیش کرتا ہے اور دوسرے وہ رضا کار جو باہر کی جماعتوں سے لئے جاتے ہیں۔پہلے میں ربوہ والوں کو کہنا چاہتا