خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 264 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 264

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۶۴ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء پر زور دیا جا رہا تھا۔چنانچہ میں نے ایک دفعہ تحریک جدید کے ۱۹۳۴ء سے ۱۹۴۴ء تک کے دس سالوں کے چندے کا ریکار ڈ اکٹھا کروایا تو مجھے پتہ لگا کہ اس عرصہ میں جو دراصل غیر ملکیوں کے لئے تربیت کا زمانہ ہے ہمارے رجسٹروں میں ان کا کوئی چندہ درج نہیں ہے اور اب یہ حال ہے کہ ایک خط وہاں سے آجاتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں جگہ یا فلاں علاقے میں ہمارا جلسہ تھا اور وہاں پانچ لاکھ روپے چندہ جمع ہو گیا۔یہ ایک علاقے کا چندہ ہوتا ہے۔میں ملک کی بات نہیں کر رہا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پاکستان کے تحریک جدید کے چندے کے مقابلے میں غیر ممالک کا چندہ آٹھ دس گنا زیادہ ہو چکا ہے کیونکہ بیرونی جماعتیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کے اندر قربانی کی بڑی روح پائی جاتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔جماعت احمد یہ تو ایک غریب جماعت ہے۔دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت ہے۔لوگ اس کو بُرا بھلا کہنے میں ثواب سمجھتے ہیں۔کوئی سیاسی اقتدار نہیں اور نہ اس کو سیاست سے کوئی دلچسپی ہے۔دنیا کی نگاہ میں اس جماعت کی کوئی عزت نہیں۔اس بات کا اعلان کرنے میں ہمیں کوئی شرم نہیں کہ دنیا کی نگاہ میں ہمارے لئے کوئی عزت نہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدائے قادر و توانا کی نگاہ میں ہمارے لئے عزت ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ مغربی افریقہ میں خدا تعالیٰ نے اس غریب اور دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت کو اسلام کی تبلیغ کی بھر پور توفیق دی۔میرا اندازہ ہے کہ پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائیت اور بت پرستی کو چھوڑ کر لا الهَ إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھتے ہوئے اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ - ۱۹۷۱ ء کی مردم شماری کی رو سے صرف ایک ملک میں پونے دو لاکھ احمدی تھے۔یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔اللہ تعالیٰ نومسلموں کے ایمانوں کو بڑھانے کے لئے نشان دکھا تا ہے۔ان کی دعاؤں کو سنتا ہے۔ان کو وقت سے پہلے خوابوں کے ذریعہ اطلاع دیتا ہے۔مرکز سے ان کا تعلق مضبوط کرنے کے لئے بالکل ان ہونی چیزیں ان کے لئے ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔وہ دعا کے لئے لکھتے ہیں۔خدائے قادر و توانا اپنی قدرت کا معجزانہ نشان ان کو دکھا کر مرکز سلسلہ کے ساتھ ان کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ابھی چند ہفتے ہوئے مجھے ایک دوست کا