خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 259
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۵۹ خطبه جمعه ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء ہدایت دی گئی ہے۔یہ ایک کامل کتاب ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمارے ہاتھ میں دی گئی ہے۔اس میں اخلاقیات یعنی حسن معاملہ کے متعلق ایک کامل ہدایت موجود ہے۔اسی طرح روحانی استعدادیں ہیں۔قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے انسان کی روحانی حالتوں کو بیان کیا ہے اور روحانی ترقی کے حصول کے طریق بھی بتائے اور ان طریق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا اور ان کی وجوہات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ایک جگہ فرمایا کہ بعض لوگوں کو ہم اونچا کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ آخُلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) زمین کی طرف جھک جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے روحانی رفعتوں کے حصول کے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سے وہ خود اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ساری ہدا یتیں تو دے دیں لیکن یہ ہدا یتیں دینے کے بعد اما شَاكِراً وَ اِمَا كَفُورًا (الدھر: ۴) انسان کو یہ اختیار ہے کہ خواہ وہ ہدایت کی راہ پر چل کر شکر گزار بندہ بنے یا گمراہی کی راہوں پر چلتے ہوئے ناشکری کرے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو مختلف قو تیں اور طاقتیں ، صلاحیتیں اور استعدادیں عطا کیں اور ان قوتوں اور صلاحیتوں کو نشو ونما دینے اور ان کو ہلاکت سے بچانے کی ہدایت دی۔گو یا ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستوں کی نشاندہی کرنے کے بعد فرمایا : - اما شَاكِرًا وَ إِمَّا كَفُورًا اے انسان! ہم تجھے صاحب اختیار بناتے ہیں اگر تو چاہے تو خدا کا شکر گزار بندہ بن اور جو تجھے کہا گیا ہے اس کے مطابق عمل کر اور خدا تعالیٰ سے انعام پا اور اگر چاہے تو ناشکری کر اور ان ہدایتوں کا نافرمان بن اور نافرمانی کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی گھاٹا تیرے نصیب میں ہوگا اور اُخروی زندگی میں خدا تعالیٰ کے قہر کے عذاب میں تجھے جلنا پڑے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے مختلف مدارج میں سے گزار کر ترقی دی۔پس ہماری زندگی میں بھی اور ہر دوسری چیز کی زندگی میں بھی تدریجی اصول چل رہا ہے یہاں تک کہ پتھروں میں بھی تدریج کا اصول کارفرما ہے۔ہر چیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا۔اس کو قو تیں اور صلاحیتیں دیں۔ان کی حفاظت کے سامان پیدا کئے۔ان کی نشو و نما کے لئے ہدایت دی۔مگر یہ سب کچھ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا