خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 253 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 253

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۵۳ خطبہ جمعہ ۲۱/اکتوبر ۱۹۷۷ء بھی مالک ہے، وہ ہماری قوتوں اور طاقتوں اور صلاحیتوں کا بھی مالک ہے، وہ ہماری اولاد کا بھی مالک ہے۔ہمارے پاس جو دولت ہے پیسے اور دوسرے اموال وغیرہ ہیں ان کا بھی مالک ہے۔اصل مالک حقیقی مالک وہی ہے اور ہمارا کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ کی مالک ہونے کی صفت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارا کچھ نہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ مالک ہے اس لئے انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ اس کے مقابل پر تمام حقوق سلب ہو جاتے ہیں۔مالک جو ہوا تو اس کے مقابل پر حق کیا، یعنی خدا تعالیٰ کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرا لڑکا تھا تو نے کیوں چھین لیا یا میرا روپیہ تھا تو نے کیوں ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ وہ ضائع ہو جائے یا میراجسم تھا اس کو مفلوج کیوں کر دیا۔کچھ بھی میرا انہیں سب اسی کا ہے۔یہ ہے مالک ہونے کے معنی۔اس صفت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ پڑھ کر آج کے خطبہ کو میں ختم کروں گا۔آپ فرماتے ہیں:۔انسان نے جو اپنے مالک حقیقی کے مقابل پر اپنا نام بندہ رکھا یا اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا الَيْهِ رجِعُونَ (البقرۃ: ۱۵۷) کا اقرار کیا یعنی ہمارا مال، جان، بدن، اولا دسب خدا کی ملک ہے تو اس اقرار کے بعد اس کا کوئی حق نہ رہا جس کا وہ خدا سے مطالبہ کرے۔اسی وجہ سے وہ لوگ جو درحقیقت عارف ہیں باوجود صدہا مجاہدات اور عبادات اور خیرات کے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اپنے اعمال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے اور کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا کوئی حق ہے یا ہم کوئی حق بجالائے ہیں کیونکہ در حقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی انسان نیکی کر سکتا ہے اور وہ صرف خدا ہے۔پس انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہر گز نہیں کر سکتا۔قرآن شریف کی رو سے خدا کے کام سب مالکا نہ ہیں۔دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حقیقی عرفان عطا کرے تا کہ ہم عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں۔روزنامه الفضل ربوہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء صفحہ ۲ تا ۷ )