خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 247
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۴۷ خطبہ جمعہ ۲۱/اکتوبر ۱۹۷۷ء کے غیر محدود جلوے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے غیر محد و دجلوے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کی تمام صفات کا یہی حال ہے کہ وہ بے مثل و مانند ہیں۔بعض مذاہب میں یہ غلط تصور پیدا ہو گئے کہ بعض صفتوں میں انسان خدا تعالیٰ کی مثل بن جاتا ہے یہ غلط ہے ، عقلاً بھی غلط ہے۔یا یہ تصور پایا جاتا ہے کہ بعض صفات میں خدا تعالیٰ ناقص ہے وہ تبھی انسان کی مثل بن سکتا ہے اگر وہ ناقص ہو۔میں ناقص ہونے کو لے لیتا ہوں۔اگر ایک صفت میں بھی اللہ تعالیٰ کو ناقص سمجھا جائے تو امکان پیدا ہو گیا کہ ہر صفت میں ہی وہ ناقص ہوسکتا ہے اور اگر یہ امکان پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی توحید قائم نہیں رہ سکتی اور یہ حقیقت کہ وہ اپنی ذات اور اپنی صفات میں واحد ویگا نہ ہے اس کی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ اپنی کسی ایک صفت میں بھی کسی جہت سے بھی ناقص نہیں ہے۔وہ واحد و یگانہ ہے جیسا اپنی ذات میں ویسا ہی اپنی صفات میں بھی ، اپنے افعال میں بھی اور اپنی قدرتوں میں بھی۔میں نے صفات باری تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی چند ایک باتیں ہی اس وقت کے لئے منتخب کی ہیں۔پہلی بات میں نے یہ بتائی کہ خدا تعالیٰ اپنی صفات میں بے مثل و مانند ہے۔اس کے بعد دوسری بات میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی قدرت غیر محدودہ سے وابستہ ہے یعنی ایک تو وہ بے مثل و مانند ہے اور دوسرے اس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو قانون کے طور پر کسی حد کے اندر گھیر لینا انسان کا کام نہیں یہ ناممکنات میں سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا شناسی کے لئے ایک بہت زبردست بنیاد یہ ہے کہ خدائے ذوالجلال کی قدرتیں بے انتہا سمجھی جائیں۔اسلامی تعلیم سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو غیر محدود قدرتیں ہیں ازلی ابدی طور پر خدا تعالیٰ ان کے جلوے دکھا رہا ہے اور ان ازلی ابدی صفات کے مطابق وہ اپنا کام کر رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ صفات ہر مخلوق ارضی و سماوی پر موثر ہورہی ہیں اور مخلوقات پر جو اثر پیدا ہوگا اس کو ہم عربی میں آثار الصفات بھی کہہ سکتے ہیں یعنی صفات کا جواثر پیدا ہوا۔آثار الصفات یعنی خدا تعالیٰ کے متعلق یہ حقیقت کہ وہ ہمیشہ اپنی ازلی ابدی صفات کے