خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 244
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۴۴ خطبه جمعه ۲۱/اکتوبر ۱۹۷۷ء بصیر ہے اور انسان بھی دیکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی سنتا ہے اور انسان بھی سنتا ہے۔خدا تعالیٰ رحیم ہے اور انسان کو بھی خدا تعالیٰ نے رحم کرنے کی قوت اور طاقت عطا کی ہے۔خدا تعالیٰ بھی کریم ہے اور انسان کو بھی خدا تعالیٰ نے کریم ہونے کی قوت اور طاقت عطا کی ہے۔خدا تعالی خالق ہے اس نے کن کے ساتھ کا ئنات کو پیدا کر دیا اور انسان کو بھی اس نے یہ طاقت دی ہے کہ وہ تجزیہ کے ذریعے یا جوڑ کر نئی چیزیں نکالے جن کو وہ نئے استعمال میں لائے۔مثلاً بہت سی دوائیاں اس نے بنائیں گووہ شاید اتنی مفید نہ ہوں جتنی کہ اپنی اصل شکل میں جس طرح کہ خدا نے ان کو پیدا کیا ہے مفید ہیں لیکن بہر حال انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ افیم ہے، طب یونانی نے اس کو اپنی اصل شکل میں، قدرتی شکل میں، جس میں کہ خدا نے اس کو پیدا کیا ہے اپنے نسخوں میں بڑی کثرت سے استعمال کیا انسان نے اس کا تجزیہ کیا اور جو میرا آخری علم ہے وہ یہ ہے کہ چھتیں اجزا اس میں سے نکالے گئے ہیں اور اس کے بعد اور نکل آئے ہوں گے اور مختلف اجزا کو مختلف مقاصد کے حصول کے لئے انسان نے استعمال کیا۔کوئی کسی بیماری کے علاج کے لئے استعمال کیا کوئی کسی بیماری کے علاج کے لئے۔انسان نے جوڑ توڑ کے ساتھ چیزیں بنائیں۔ایک تو ہے تجزیہ کرنا اور ایک ہے چیزوں کو جمع کرنا۔ان دونوں سے وہ خلق کرتا ہے۔غرض ایک ملتی جلتی چیز انسان کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔پس ایسی صفات جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ایسے رنگ میں انسان پر جلوہ گر ہوئیں کہ وہ ان کو اپنا لے، ان کا رنگ اپنے اوپر چڑھالے اور تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کی ہدایت پر عمل کر سکے اس قسم کی صفات باری کو شیبی صفات کہا جاتا ہے۔لیکن جب ہم غور کرتے ہیں تو تشیبہی صفات میں سے بھی کوئی صفت ایسی نہیں کہ انسان اس صفت میں خدا تعالیٰ کی مثل اور مانند بن جائے۔بہت سی صفات ہیں سب میں تو میں اس وقت نہیں جاسکتا کچھ مثالیں دوں گا تا کہ آپ سمجھ جائیں۔میں نے بتایا تھا کہ انسان کو حواس دیئے گئے بہت کچھ سیکھنے کے لئے اور ان میں سے ایک سننا ہے۔ہمارے سارے تعلیمی ادارے شنوائی کی جس پر ہی چل رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔استاد لیکچر دیتا ہے اور شاگر دسنتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی سنتا ہے ، وہ ہماری دعاؤں کو سنتا ہے اور ہم پر رحم کرتا ہے اور ہماری دعاؤں کو قبول