خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 229
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۲۹ خطبہ جمعہ ۱۴ را کتوبر۱۹۷۷ء اطاعت کرے اور چاہے تو اطاعت نہ کرے لیکن اس اختیار کے باوجود خدا تعالیٰ نے انسان کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس کے حصول کے لئے جو بہترین صلاحیتیں اور استعدادیں ممکن ہو سکتی تھیں وہ جب انسان کی فطرت کے اندر رکھ دی گئی ہیں۔جہاں انسان کے علاوہ دوسری اشیاء کو یہ حکم ہے کہ وہ انسان کی خدمت کریں وہاں انسان کو بنیادی طور پر یہ طاقت دی گئی ہے کہ وہ کائنات کی ہر شے سے خدمت لے گویا کائنات کی ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا گیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے انسان کو یہ قوت عطا کی ہے کہ وہ کائنات کی ہر چیز سے خدمت لے سکے لیکن کامل طاقتیں دینے کے بعد ہر انسان کے ساتھ ایک طرف داعی الی الخیر اور دوسری طرف داعی الی الشر لگا دیا اور یہ ایک نظام ہے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر قائم کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو فطرت صحیحہ کاملہ عطا کی اور پھر جس غرض کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے اس کو پورا کرنے کی اسے طاقت بخشی لیکن اس کے ساتھ داعی الی الخیر اور داعی الی الشر بھی لگا دیا۔داعی الی الخیر کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرو اور داعی الی الشر کہتا ہے اطاعت نہ کرو۔اب یہ انسان کی عقل وفراست پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو داعی الی الخیر کی آواز سنے اور اپنی فطرت صحیحہ کے مطابق خدا تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے اعمال بجالائے اور اگر چاہے تو داعی الی الشر کی آواز پر کان دھرے اور خدا تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکل جائے۔پھر ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض بیرونی طاقتیں داعی الی الخیر کے ساتھ بھی ملتی ہیں اور داعی الی الشر کے ساتھ بھی رابطہ پیدا کرتی ہیں یعنی انسان کے اندر نیکی اور بدی کی جو آواز ہے اس پر بعض بیرونی طاقتیں اثر ڈالنا چاہتی ہیں۔اگر داعی الی الخیر کے ساتھ کوئی بیرونی اثرات نہ مل سکتے تو تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المآئدة: ۳) نہ کہا جاتا اور اگر داعی الی الشر کے ساتھ باہر کا اثر شامل نہ ہو سکتا اور یہ ممکن نہ ہوتا تو شیطان کی ذریت، جس کا قرآن کریم نے مختلف پیرایوں میں ذکر کیا ہے اس کا کوئی سوال باقی نہ رہتا۔غرض ہر انسان کے اندر داعی الی الخیر اور داعی الی الشر کی دو اندرونی طاقتیں ہیں لیکن ان پر باہر سے اثر انداز ہونے والی بھی کچھ طاقتیں ہیں۔جیسا کہ اسلام نے ہمیں بتایا ہے انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرنے یا نہ کرنے