خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 210

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۱۰ خطبہ جمعہ ۳۰ ستمبر ۱۹۷۷ء استعمال کرے گا تو لمبا عرصہ بھوکا رہنا تیرے لئے جسمانی طور پر خطرات کا باعث ہے، بعض دفعہ ایسے حالات میں موت بھی واقع ہو جاتی ہے تو اسلام نے یہ نہیں کہا کہ رمضان آجائے تو ایسی حالت میں بھی روزہ رکھ بلکہ اس کو اجازت دی کہ اگر خطرات ہوں تو پھر تیرے لئے سہولت ہے۔اس وقت میں مختصر طور پر مثال دے کر بتا رہا ہوں کہ میرا آج کا خطبہ ایک لمبے مضمون کی تمہید ہے اس کے بعد پھر میں ایک دو تین کر کے خصوصیات لوں گا اور انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، اس نے زندگی دی تو پھر ان کی تفصیل میں جاؤں گا۔غرض اسلام کے اندر کوئی ایسی تعلیم نہیں جس کی پابندی غیر ممکن ہو یا جس کے نتیجہ میں خطرات کا امکان ہو۔یہ اسلام کی خصوصیت ہے۔اور آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی تعلیم اور ہدایت سے کوئی ایسی تعلیم باہر نہیں رہی اور ترک نہیں کی گئی جو ہر قسم کے مفاسد کو روکنے کے لئے ضروری تھی یعنی کوئی ایسی بات کہ اگر اس کا حکم نہ دیا جائے تو انسانی معاشرہ کے اندر یا انسان کی ذاتی زندگی کے اندر یا اس کی گھریلو زندگی کے اندر یا اس کی خاندانی زندگی کے اندر مفاسد پیدا ہو سکتے تھے یا اس کے ماحول کے اندر پیدا ہو سکتے تھے یا اس کے ملک کے اندر پیدا ہو سکتے تھے یا بین الاقوامی رشتوں کے اندر پیدا ہو سکتے تھے اس سے باہر نہیں رہی۔اسلامی ہدایت سے کوئی ایسی تعلیم باہر نہیں رہی جو ہر قسم کے مفاسد کو روکنے کے لئے ضروری تھی اور کوئی ایسی تعلیم اسلام سے باہر نہیں رہی جس کے باہر رہنے سے کوئی چھوٹا یا بڑا فساد پیدا ہوسکتا تھا بلکہ ہر قسم کے شر اور فساد کوروکنے کی تعلیم اسلام کے اندر پائی جاتی ہے۔یہ اسلامی تعلیم کی آٹھویں خصوصیت ہے۔اور نو میں خصوصیت یہ ہے کہ اسلام ایسے احکام سکھلاتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کو عظیم الشان محسن قرار دے کر اس کے ساتھ رشتہ محبت کو محکم کرتے ہیں اور اس طرح پر اسلام انسان کو تاریکی سے نور کی طرف لے کر جاتا ہے اور اس طرح پر اسلام انسان کو غفلت سے حضور کی طرف کھینچتا ہے۔تمام ایسے احکام اور ایسی تعلیمات جو خدا تعالیٰ کا پیار انسان کے دل میں پیدا کرنے والی ہو سکتی تھیں وہ قرآن کریم میں بیان کر دیں اور اس طرح پر اسلامی تعلیم نے ایک انسان کے لئے یہ ممکن بنا دیا کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے ربّ کریم کے ساتھ ذاتی محبت کا رشتہ قائم کرے۔