خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 209
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۰۹ خطبہ جمعہ ۳۰ ستمبر ۱۹۷۷ء خدا تعالیٰ نے اسلام میں ہمیں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو وہ تمام طاقتیں دے دی ہیں جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری تھیں۔تکمیل اسلام میں دو معنی میں استعمال ہوئی ہے ایک نوع انسانی کی تکمیل ، اس کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا تقرب حاصل کرے اور خدا تعالیٰ کے پیار کی جنتوں میں داخل ہو اور دوسرے ہر فرد واحد کی تکمیل، ہر فرد کا دائرہ استعداد دوسرے سے مختلف ہے۔غرض ہر فرد کی تکمیل بھی کی اور نوع انسانی کی تکمیل بھی کی یعنی اسلام نے فطرت انسانی کی تکمیل کی اور فطرتِ انسانی کی تکمیل کرنے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود بطور اسوہ کے ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ساتویں خصوصیت اسلام کی تعلیم میں یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جس کی پابندی کرنا ممکن ہی نہ ہو یا جس کے نتیجہ میں خطرات کا امکان ہو مثلاً ہمیں پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا حکم ہے لیکن انسانی زندگی میں بیماری کی بعض ایسی حالتیں ہوتی ہیں کہ مسجد میں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو اسلام نے یہ نہیں کہا کہ بیمار ہو یا تندرست ہر حال میں مسجد میں جا کر نماز ادا کرو بلکہ فرمایا کہ اگر بیمار ہو تو اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کرو۔پھر ہمیں حکم دیا کہ نماز اس طریق سے پڑھا کرو۔اس میں قیام ہے، اس میں رکوع ہے، اس میں سجدہ ہے، اس میں قعدہ ہے، نماز میں اٹھنے بیٹھنے کی ایک ظاہری شکل ہے لیکن اسلام نے یہ نہیں کہا کہ ہر صورت میں تم ایسا کرو ورنہ گناہگار ہو جاؤ گے بلکہ اگر کوئی ایسی بیماری ہے کہ انسان گھر میں بھی کھڑا نہیں ہوسکتا اور اس طرح رکوع نہیں کر سکتا جیسے ہم مسجد میں نماز پڑھتے وقت کرتے ہیں تو اس کو اجازت دی کہ تو بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کر جس میں قیام کی شکل بھی بدل گئی اور رکوع کی شکل بھی بدل گئی۔دِينُ اللهِ يُسر خدا تعالیٰ نے دینِ اسلام میں کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی اور کوئی ایسی جبری تعلیم نہیں دی جو انسان کے لئے بحیثیت انسان ممکن نہیں ہے یا کسی فرد کے لئے بعض حالات میں ممکن نہ رہے اور اس کے لئے کوئی دوسرا جواز نہ پیدا کیا گیا ہو۔پھر ایک تو یہ ہے کہ ممکن ہی نہیں اور ایک یہ ہے کہ اس میں خطرات کا امکان ہے۔مثلاً ایک بیمار ہے ڈاکٹر ا سے کہتا ہے کہ تیرے لئے ان دواؤں کا استعمال ضروری ہے یہ اس کا طبی مشورہ ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر تو یہ دوائیں