خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 208
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۰۸ خطبہ جمعہ ۳۰ ستمبر ۱۹۷۷ء تعلیم دی ہے وہ نہایت حسین تعلیم ہے، ایسی کہ اسلام سے پہلے نہ کسی مذہب نے ایسی تعلیم دی اور نہ کسی فلاسفر اور حکیم نے ایک حد تک حکمت کی گہرائیوں میں جانے کے باوجود اس قسم کی تعلیم دنیا کے سامنے رکھی۔عجیب تعلیم ہے، بڑی عظیم تعلیم ہے عام انسانی چال چلن کے متعلق کہ ایک انسان کا چال چلن کس قسم کا ہونا چاہیے۔تیسری خصوصیت اسلام میں یہ ہے کہ کوئی ایسی تعلیم اس میں نظر نہیں آتی جو انسانی حقوق کے باہمی رشتہ کو توڑتی ہو بلکہ انسانی حقوق کے باہمی رشتہ کو جوڑنے والی تعلیم ہے، ان کو پختہ کرنے والی تعلیم ہے، ان میں پیار پیدا کرنے والی تعلیم ہے، ان میں حسن پیدا کرنے والی تعلیم ہے۔خصوصیات کے اس گروپ میں سے چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اسلام میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو انسان کو دیوثی کی طرف کھینچتی ہو یا د یوٹی اس کو مستلزم ہو بلکہ رذائل سے بچانے والی ، گندگی سے ہے۔نجات دلانے والی اور عزت کے مقام پر کھڑا کرنے والی تعلیم ہے جو برائیوں سے روکتی۔ایک کامل تعلیم منہیات کے متعلق نہ کر کے متعلق ہمیں اسلام میں نظر آتی ہے۔پانچویں خصوصیت اسلامی تعلیم میں ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ اس میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو فطرتی حیا اور شرم کے مخالف ہو۔انسان کی فطرت میں شرم اور حیا ہے لیکن دنیا اپنی عادتوں کی وجہ سے یا دنیا اپنے ماحول کی وجہ سے بدقسمتی سے اس فطرتی حیا اور شرم کے مخالف عادات اپنے اندر پیدا کر لیتی اور ذلت کا چولہ پہن لیتی ہے اور فطرتی حیا اور شرم کو مار دیتی اور کچل دیتی ہے اور اس کا کوئی ذرہ بھی باقی نہیں رہنے دیتی لیکن اسلام میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو فطرتی حیا اور شرم کے مخالف ہو بلکہ اسلام کی ساری تعلیم فطرتی حیا اور شرم کے عین مطابق اور فطرتی حیا اور شرم کی تکمیل کے لئے صراط مستقیم دکھانے والی ہے۔چھٹی خصوصیت اسلام میں یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کے عام قانونِ قدرت کے مخالف پڑی ہو۔قوانینِ قدرت اور انسانی فطرت میں ، انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعدادیں اور صلاحیتیں رکھی ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں ہے کوئی مخالفت نہیں ہے۔قانونِ قدرت اور انسانی فطرت میں اسلام نے کامل مطابقت پیدا کی ہے اور اس کی بنیاد یہ رکھی کہ