خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 198
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۹۸ خطبہ جمعہ ۲۳ ؍ستمبر ۱۹۷۷ء سور ہے یا درندے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے ، اسلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت نے ہمیں کہا کہ ایسے جاندار جن کی افادیت ان کے کھانے میں نہیں بلکہ اور چیزوں میں ہے تو جس غرض کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اس غرض کے لئے ان کو استعمال کرو۔( یہ بڑا لمبا مضمون ہے سانپوں کے متعلق مکھیوں کے متعلق اسی طرح دیگر چیزوں کے متعلق بہت گفتگو کی جاسکتی ہے تھوڑی بہت میں بھی کر سکتا ہوں لیکن اس وقت میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔) اسلامی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے قانون کو توڑنا نہیں، حدود سے تجاوز نہیں کرنا، اسراف نہیں کرنا۔اسی طرح جو چیزیں انسان کے کھانے کے لئے بنائیں ان کے متعلق بھی کہا کہ اسراف نہیں کرنا۔کھانے کے لحاظ سے اسراف کئی طور پر ہوسکتا ہے، جسم کی ضرورت سے زیادہ کھانا بھی اسراف ہے۔( جسم کی ضرورت سے کم کھانا بھی منع ہے لیکن زیادہ کھانا اسراف اور ضیاع ہے۔) اور ایک اسراف اس طور پر ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی ناشکری کرتے ہوئے اغذیہ یعنی غذاؤں میں سے بعض کو اپنی غفلت اور نالائقی کی وجہ سے اور بے پرواہی کی وجہ سے ضائع کر دے اور تلف کر دے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی پلیٹ میں اتنا ہی سالن ڈالا کرو کہ ایک لقمے کا سالن بھی ضائع نہ ہو۔کھانے والی چیزوں میں میں نے جو سالن کی مثال لی ہے یہ غیر جاندار چیزوں پر بھی اطلاق پاتی ہے لیکن گائے کا گوشت ہے، اونٹ کا گوشت ہے، دنبے کا گوشت ہے ان کا بھی سالن پکتا ہے۔پھر کہا کہ جنگلوں میں جو آزاد جانور رہتے ہیں تم محض شوقیہ ان کا شکار نہ کیا کرو کہ تمہیں ضرورت تو نہیں ، شکار کرو اور پھر پھینک دو اس سے منع کیا۔کہا کہ جتنے کی ضرورت ہے اتنا شکار کرو کیونکہ وہ پیدا ہی انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کئے گئے ہیں۔پھر جو پالے ہوئے جانور ہیں مرغیاں اور دوسری چیزیں ہیں ان کو دکھ دینے سے آپ نے بڑی سختی سے منع کیا۔ہر جاندار کے متعلق کہا کہ ان کی تکلیف کو دور کرنا ہے، جانداروں کے متعلق ، غیر انسان کے متعلق یہ تعلیم دی۔کتے اور بلی تک کے متعلق کہہ دیا کہ ان کا خیال رکھنا بڑے ثواب کا کام ہے۔گھر کے پالتو جانوروں کے متعلق کہا کہ ذبح کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھو کہ ان کو تکلیف نہ ہو کم سے کم تکلیف میں ان کی جان نکلے کیونکہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ انسان ان کو کھائے اسی لئے ان کو پیدا کیا