خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 196 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 196

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۹۶ خطبہ جمعہ ۲۳ ؍ستمبر ۱۹۷۷ء اتنی رحمتیں اور اتنے فضل اور انعام اس بندے پر نازل ہوتے ہیں کہ جن کا حد وشمار نہیں۔اسی غرض کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا اور کہا گیا کہ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) ہم نے تجھے عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔یہ فقرہ تو بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے معانی نے بھی دنیا کی ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام پہچاننے کے لئے اور آپ کی عظمت اور آپ کے جلال کو جاننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات حاضر ہو کہ آپ کس معنی میں اور کن کے لئے رحمت ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی شکل میں جو تعلیم آپ کے ذریعہ انسان کو دی جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ عجیب کتاب نظر آتی ہے جسے ہم قرآنِ عظیم کہتے ہیں یا ہم قرآن کریم کہتے ہیں یا ہم قرآن مجید کہتے ہیں۔ہر بات جس کی انسان کو ضرورت تھی، جس کے نتیجہ میں انسان نے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا علم حاصل کرنا تھا اور ان سے حصہ لینا تھا، وہ راہیں جن پر چل کر انسان نے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا تھا وہ سب اس عظیم کتاب میں بیان ہوگئی ہیں۔قرآن کریم نے جو یہ کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَحْمَةٌ لِلْعَلَمينَ بنا کر بھیجا گیا ہے۔مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ یہ کس معنی میں ہے کیونکہ اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمتوں اور اس کی عظیم صفات کا اس کی کبریائی اور جلال اور عظمت کا عرفان دیا جائے اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں یہ علم ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس معنی میں رحمت ہو کر آئے۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت اس کی دوصفات کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، ایک اس کی رحمانیت ہے اور دوسرے اس کی رحیمیت ہے۔خدا رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔اس کی رحمان ہونے کی صفت کا ربوبیت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔دنیا کی ہر چیز جس کو پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پرورش کرتا ہے اور ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ وہ انسان کے لئے فائدہ مند بن جائے کیونکہ ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم اور آپ کا وجود بے جان چیزوں کے لئے بھی رحمت ہے۔ایک تو جاندار چیزیں ہیں جن میں چوپائے بھی ہیں، پرندے بھی ہیں، چرند بھی ہیں اور انسان بھی ہیں اور ایک بے جان