خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 186
خطبات ناصر جلد ہفتم JAY خطبہ جمعہ ۹؍ستمبر ۱۹۷۷ء ہے۔تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَونَهُ سَلم ان کی آخری کامیابی یہ ہے کہ ان کو سلامتی کی شکل میں دعا کا تحفہ ملے گا یعنی ہمیشہ کی زندگی میں وہ خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہوں گے۔وَأَعَدَّ لَهُم وو اجرًا كَرِيماً ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑا عزت والا بدلہ تیار کیا ہے۔اس عزت والے بدلہ کے لئے جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے ذکر اللہ کی ، ذكرًا كَثِیرًا کی ضرورت ہے اور اسی کے نتیجہ میں انسان ہدایت پاتا ہے نہ یہ کہ شیطان انسان کو صراط مستقیم سے پرے بھی لے جائے اور وہ یہ سمجھتا رہے اور اس وہم میں مبتلا رہے کہ میں ہدایت یافتہ ہوں۔پس ضروری ہے کہ شیطان قرین نہ ہو بلکہ شیطان مسلمان ہو جائے اور انسان حزب الشیطان کی بجائے حزب الرحمن یعنی رحمن خدا کے گروہ میں داخل ہو جائے۔رحمن جو بغیر ہمارے عمل کے بھی ہم پر رحم کرنے والا ہے جب اس کی رحمانیت اس کی رحیمیت کے ساتھ شامل ہو تو پھر انسان کو ایک ایسا بدلہ ملتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں اجر کریم فرمایا ہے۔غرض آخری جمعہ کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ یہ رمضان کے مہینہ میں آخری جمعہ ہے جس کے بعد اس رمضان میں اور کوئی جمعہ نہیں اور جمعہ وہ دن ہے جس میں خاص طور پر دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ دیا گیا ہے اور ہمیں یہ کہا گیا کہ اس جمعہ میں تم اس معرفت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ شیطان کو ذکر اللہ کے رسوں کے ساتھ باندھا جاتا ہے اور اسی سے رمضان میں شیطان کو باندھا گیا ہے کیونکہ اس میں ایسے مواقع بہم پہنچائے گئے ہیں کہ انسان کثرت سے خدا تعالیٰ کا ذکر کرتا اور اس کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔پس یہ آخری جمعہ ماہِ رمضان میں آخری موقعہ ہے جب قبولیت دعا کی حالت میسر آتی ہے۔یہ موقعہ ہے کہ تم خدا سے یہ دعا کرو کہ اے خدا ! جس طرح تو ان دنوں میں ذکر اللہ کی ادائیگی کے سامان پیدا کرتا ہے اسی طرح صرف رمضان میں ہی نہیں اور رمضان کے جمعوں میں ہی نہیں بلکہ سارا سال تو ہمیں یہ توفیق عطا کر کہ ہم ہر وقت تیرے ذکر میں مشغول رہنے والے ہوں۔ذکر اللہ بڑا ستا سودا ہے۔بارہ مہینے انسان روزے نہیں رکھ سکتا اس کا جسم برداشت ہی نہیں کر سکتا۔بعض صحابہ نے رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا۔بارہ مہینے عبادات کے لئے بھی اتنا وقت نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس نے حسنات دنیا کے لئے بھی وقت