خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 4
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء چاہیے ) ہر گھڑی ایک نیا دروازہ کھلتا ہے ترقیات کا جنتیوں کے لئے اور وہ خدا تعالیٰ کے حسن کو اور زیادہ حسین شکل میں دیکھتے ہیں۔آنے والے دن پچھلے دن کے مقابلہ میں زیادہ حسین ہوتے ہیں اور ہم اپنے محاورہ میں کہہ سکتے ہیں کہ جنت میں اُن کا مقام کچھ اور بلند ہو جاتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی رضا کو کچھ اور زیادہ حاصل کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حسن کے جلوے کچھ اور ہی شان کے ساتھ اُن کے او پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔پس یہ جو تقویٰ والا حصہ ہے یعنی روحانی ترقیات کا یہ ظاہری دینی معیار کے مقابلہ میں بہت زیادہ اہم ہے لیکن جو دینی معیار ہے اس کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔اس کے لئے بھی قوم کو ہمیشہ چوکس اور بیدار رہ کر کوشش کرنی پڑتی ہے کہ وہ صراط مستقیم پالینے کے بعد بے راہ رو نہ ہو جا ئیں۔اسلام کی گزشتہ چودہ سو سال کی تاریخ میں یہ نظر آتا ہے کہ جگہ جگہ اور ملک ملک مسلمانوں میں بدعات پیدا ہو گئیں اور پھر اُن کو دُور کرنے کے لئے خدا نے اپنے نیک بندوں کو کھڑا کیا اور وہ کامیاب ہوئے۔پھر کچھ عرصہ گزرا تو کسی اور طرف سے شیطان نے حملہ کیا اور نئی قسم کی بدعات پیدا ہو گئیں۔تاریخ کا یہ حصہ ہمیں بتاتا ہے کہ امت محمدیہ کا زندہ رہنے والا حصہ (ایک حصہ ہمیشہ زندہ رہا ہے ) اور وہ وہ حصہ ہے جو ہمیشہ چوکس اور بیدار رہا ہے یعنی چودہ سو سال میں جہاں بدعات پیدا ہوئیں وہاں لاکھوں کروڑوں بزرگ بندے خدا سے پیار کرنے والے اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والے بھی تو پیدا ہوئے۔پس دریا کا ایک وہ دھارا ہے جو اپنے راستے سے ہٹا نہیں اور اپنے بہاؤ پر جارہا ہے اور وہ جس کی نہ گہرائی کا پتہ ہے اور نہ اس کی وسعتوں کا ہمیں علم حاصل ہوسکتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی ذات وصفات جسے تمثیلی زبان میں سمندر کہہ سکتے ہیں۔وہ اس کے قریب ہو رہے ہیں اور صراط مستقیم پر بحیثیت امت مسلمہ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔غرض انہوں نے صراط مستقیم کو نہیں چھوڑا لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے بدعات بھی پیدا ہوئیں اور عجیب و غریب بدعات پیدا ہوئیں۔جس جگہ اسلام پھیلا وہاں کے پرانے مکینوں کی کچھ