خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 165

خطبات ناصر جلد ہفتہ ܬܪܙ خطبہ جمعہ ۲۶ راگست ۱۹۷۷ء ضرور پائے جاتے ہیں ایک صدیقوں کا گروہ اور دوسرے شہداء کا گروہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صدیق اور شہید کے جو معنے کئے ہیں وہ میں اس وقت پڑھ کر سناؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔صدیق وہ ہوتا ہے جس کو سچائیوں کا کامل طور پر علم بھی ہو اور پھر کامل اور طبعی طور پر ان پر قائم بھی ہو۔مثلاً اس کو ان معارف کی حقیقت معلوم ہو کہ وحدانیت باری تعالیٰ کیا شے ہے اور اس کی اطاعت کیا شے اور محبت باری عزاسمہ کیا شے اور شرک سے کس مرتبہ اخلاص پر مخلصی حاصل ہوسکتی ہے اور عبودیت کی کیا حقیقت ہے اور اخلاص کی حقیقت کیا اور تو بہ کی حقیقت کیا اور صبر اور توکل اور رضا اور محویت اور فنا اور صدق اور وفا اور تواضع اور سخا اور ابتہال اور دعا اور عفو اور حیا اور دیانت اور امانت اور اتقاء وغیرہ اخلاق فاضلہ کی کیا کیا حقیقتیں ہیں۔پھر ماسوا اس کے ان تمام صفات فاضلہ پر قائم بھی ہو۔پھر آپ تریاق القلوب ہی میں فرماتے ہیں۔وو صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کی صورت پر ہوں اور اس صدیق کے صدق پر گواہی دیں۔پھر الحکم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات میں سے ایک ارشاد کی ڈائری یہ ہے:۔صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کوترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے دور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا نہ جھوٹی گواہی دوں گا اور جذبہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹی کلام نہ کروں گا۔نہ لغوطور پر نہ کسب خیر کے لیے نہ دفع شر کے لیے یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا جب اس حد تک وعدہ