خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 164
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۶۴ خطبہ جمعہ ۲۶ اگست ۱۹۷۷ء خدا کا حقیقی بندہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی عظمت اور جلال کے لحاظ سے اور اپنے کمال کو پہنچ جانے کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باقی تمام رسول جو پہلے گزرے اور وہ تمام مقربین الہی جو بعد میں آئے وہ اس عبد کامل کی ظلمیت میں عبد بنے جو کہ عبودیت کے اعلیٰ اور ارفع اور کامل مقام پر کھڑا ہے۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی پہلوں نے بھی آیات بینات حاصل کیں اور بعد میں آنے والے بھی محمد ہی کی عظمت اور جلال کو ظاہر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے کھلے کھلے نشان پانے والے بنے اور یہ نشان اس لئے ظاہر ہوئے کہ جو شیطانی ظلمات انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ان سے انسان کو پاک کیا جائے اور جس نور کی خاطر اسے پیدا کیا گیا ہے وہ نوران بندوں کو ، ان مخلص مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو کیونکہ إِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رحیم اللہ تعالیٰ کی صفت شفقت کرنا اور بار بار رحم کرنا ہے۔پہلے یہ کہا تھا کہ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللهِ کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے پھر چند آیات کے بعد یہ کہا گیا ہے وَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَ رُسُلہے کہ جو خدا پر اور اس کے رسل پر ایمان لاتے ہیں ( تمام رسل اس بات میں شامل ہیں خواہ وہ شریعت لانے والے رسل تھے یا شریعت کی پیروی کرانے کے لئے آنے والے رسل تھے ) اولبِكَ هُمُ الصّدِيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ - ان مومنوں میں صدیقوں کا گروہ بھی ہے اور شہداء کا گروہ بھی ہے۔لَهُمْ أَجْرُهُمُ ان کے اعمال کا اجر اور ثواب اللہ تعالیٰ انہیں دے گا وَ نُورھم اور ان کی قابلیت اور صلاحیت اور استعداد کے مطابق ان کا نور بھی انہیں عطا کیا جائے گا تا کہ وہ اپنے اعمال صالحہ میں ترقی کریں اور پہلے سے زیادہ اجر حاصل کریں لیکن وَ الَّذِينَ كَفَرُوا وہ ناشکرے انسان جو خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ نے جو استعداد میں قرب الہی کے لئے دی ہیں ان کا انکار کرتے اور ان کی ناشکری کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں ان کی سزا ان کے اپنے عمل کی وجہ سے وہ دوزخ ہے کہ جو خدا تعالیٰ سے دوری اور خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کی علامت ہے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جتنے بھی رسول ہیں ان پر ایمان لانے والوں میں دو گروہ