خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 162
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۶۲ خطبہ جمعہ ۲۶ را گست ۱۹۷۷ ء نازل کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان نشانات کے ذریعہ سے تم کو اندھیروں میں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے اور اللہ یقیناً بہت شفقت سے کام لینے والا اور بار بار کرم کرنے والا ہے اور جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہداء کا درجہ پانے والے ہیں۔ان کو ان کا پورا پورا اجر ملے گا اور اسی طرح ان کا نور ان کو ملے گا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلا یا وہ دوزخی ہوں گے۔حضور انور نے فرمایا:۔قرآن کریم کے الفاظ کے جو معانی کئے گئے ہیں ان کی رُو سے لفظ ایمان تین باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دل تصدیق کرے، زبان اس کا اعلان کرے اور انسان کا عمل گواہی دے کہ واقعہ میں اس کا دل ایمان لایا ہے اور صداقت کی تصدیق کرتا ہے۔پس ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا پہلا اور حقیقی تعلق دل کے ساتھ ہے اور دنیا کی کوئی طاقت کسی دل میں ایمان کو داخل نہیں کر سکتی نیز دنیا کی کوئی طاقت کسی دل سے ایمان کو نکال نہیں سکتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے پیار نے اور آپ کے سلوک نے (اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کے نتیجہ میں جو آپ سے ہو رہا تھا اور جس کا دیکھنے والی آنکھ مشاہدہ کر رہی تھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے دلوں کو اس طرح جیتا کہ صداقت دلوں میں گڑ گئی۔میں نے جو یہ کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت دل سے ایمان کو نکال نہیں سکتی اگر واقعی دل میں ایمان ہو اور اس کی مثال صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ہے۔وہ کون سی مصیبت تھی جس سے وہ دو چار نہ ہوئے ، وہ کون سی ایذا تھی جو ان کو نہیں پہنچائی گئی، اتنے دکھ دیئے گئے اور اتنی تکلیفیں پہنچائی گئیں کہ آج بھی جب ہم سوچتے ہیں تو ہمارے رو نگے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن وہ صداقت جو ان کے دلوں میں داخل ہو چکی تھی ہر قسم کے دکھ اور ایذا رسانی اور ابتلا نے بھی اس صداقت کو ان کے دلوں سے نہیں نکالا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو بہت دکھ دیا گیا مگر وہ ثابت قدم رہے۔اس سے بہتر مثال انسان کی مذہبی تاریخ میں ہمیں اور کہیں بھی نہیں ملتی۔