خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 160

خطبات ناصر جلد ہفتم 17۔خطبہ جمعہ ۱۹ اگست ۱۹۷۷ء مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔مبارک تم جبکہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اُٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھریوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیتی ہے کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم ، حیا والا ، صادق، وفادار، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو جاؤ اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔خدا کے لئے ہار اختیار کرلو اور شکست کو قبول کرلوتا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔دعا کرنے والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائے گی۔دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔پس اس ماہ میں خاص طور پر دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔یہ بنیادی دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کبر و اباء اور فخر وریاء سے معصوم دعائیں کرنے کی توفیق عطا کرے اور ان دعاؤں کو قبول کرے اور دعا کے ذریعہ سے ایک مومن مسلم کو جو نعمتیں ملنے کا وعدہ دیا گیا ہے اس قسم کی دعاؤں کی توفیق عطا کرے اور ہمیں ہمیشہ ایمان کے صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنی رضا کی جنتوں کا ہمیں ہمیشہ وارث بنائے رکھے۔66 روز نامه الفضل ربوه ۱۳ ستمبر ۱۹۷۷ ، صفحه ۲ تا ۴) 谢谢谢