خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 159 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 159

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۵۹ خطبہ جمعہ ۱۹ اگست ۱۹۷۷ء ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔ہاں یہ سچ ہے کہ معرفت حاصل نہیں ہوسکتی جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور نہ مفید ہوسکتی ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور فضل کے ذریعہ سے معرفت آتی ہے تب معرفت کے ذریعہ سے حق بینی اور حق جوئی کا ایک دروازہ کھلتا ہے اور پھر بار بار فضل سے ہی وہ دروازہ کھلا رہتا ہے اور بند نہیں ہوتا۔غرض معرفت فضل کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے اور پھر فضل کے ذریعہ سے ہی باقی رہتی ہے۔فضل معرفت کو نہایت مصفی اور روشن کر دیتا ہے اور حجابوں کو درمیان سے اُٹھا دیتا ہے اور نفس امارہ کے گردوغبار کو دور کر دیتا ہے اور روح کو قوت اور زندگی بخشتا ہے اور نفس اتارہ کو امارگی کے زندان سے نکالتا ہے اور بدخواہشوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے اور نفسانی جذبات کے تند سیلاب سے باہر لاتا ہے تب انسان میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی گندی زندگی سے طبعاً بیزار ہو جاتا ہے کہ بعد اس کے پہلی حرکت جو فضل کے ذریعہ سے روح میں پیدا ہوتی ہے وہ دعا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں ( خدا کے فضل اور معرفت کے بغیر جو دعا کرنے والے ہیں آپ نے ان کو مخاطب کیا ہے کہ یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں ) اور تمام نماز دعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ وہ دعا جومعرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے، وہ فنا کرنے والی چیز ہے، وہ گداز کرنے والی آگ ہے، وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے، وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے وہ ایک تندرسیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہوجاتا ہے۔مبارک وہ قیدی کے جو دعا کرتے ہیں تھکتے نہیں کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں ست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔1 یعنی ہوائے نفس کے زندان میں رہنے والے جیسا کہ اوپر ذکر آیا تھا۔ے یعنی روحانی آنکھ سے۔