خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 139
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۳۹ خطبہ جمعہ ۲۹ / جولائی ۱۹۷۷ء بھی اور جنوب میں بھی فساد برپا تھا۔اس لئے دنیا میں فساد مٹانے اور انسانی استعداد کو روحانی میدانوں میں آگے سے آگے بڑھنے اور روحانی رفعتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے کامل ہدایت کی ضرورت تھی پہلی ہدایتیں اس کے لئے کافی نہ تھیں۔پس قرآن کریم کی کامل ہدایت آگئی جس سے انسانی استعداد کی کامل نشو ونما ہوئی اور دنیا سے فساد کا سد باب بھی ہو گیا۔اگر چہ پہلی تعلیمیں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی تھیں لیکن کامل تعلیم قرآن کریم کی تعلیم ہے جو ہر لحاظ سے مکمل ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کا نام اسلام رکھا اور اس طرح وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المآئدۃ: ۴ ) کا اعلان کر دیا گیا۔تیسرا کمال کلام پاک کا یہ ہے کہ تُؤْحَ اكْلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبَّهَا قرآنی تعلیم ہر وقت اور ہر آن اور ہر ایک کو اپنا پھل دیتی ہے۔بِاِذْنِ رَبّبھا میں بنیادی حقیقت کا اظہار بھی کر دیا کہ انسان کی ساری کوشش اور تدبیر بے نتیجہ ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہو لیکن انسان کی کامل تدبیر اور کامل کوشش نا ممکن تھی خدا کی راہ میں اگر قرآن کریم نہ ہوتا کیونکہ یہ کامل ہدایت پر مشتمل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری طرف کامل ہدایت بھیج دی گئی ہے۔اس پر عمل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے تم اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق پوری کوشش کرو لیکن یہ نہ بھولنا کہ خدا تعالیٰ کی رضا خدا کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔اسی کے فضل اور رحمت سے خدا کا پیارا نسان کو ملتا ہے۔ہے۔توى اكْلَهَا كُل حِينٍ میں جس پھل کا ذکر ہے وہ دراصل لقاء باری ہے۔خدا کی لقا اور اس کا قرب اس تعلیم کا پھل ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے لے کر آج تک اُمت محمدیہ میں لاکھوں کروڑوں لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے اس کامل تعلیم کا پھل کھایا اور اس سے ان کی روح نے زندگی اور تازگی اور تقویت پائی یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بنے اور انہیں لقاء الہی حاصل ہوئی۔لقا کے ساتھ بہت سے لوازمات ہیں جن کا ذکر قرآن کریم ہی میں بہت سی جگہوں پر آیا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِم و