خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 138
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۳۸ خطبہ جمعہ ۲۹ / جولائی ۱۹۷۷ء شان اس کی صفات کے جلووں کی انسان کے سامنے لے کر آتا ہے۔فَرْعُهَا فِي السَّمَاء کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ تعلیم آسمان کی رفعتوں تک پہنچ گئی یعنی اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے ابھی اشارہ کیا تھا قرآن کریم سے پہلے جو تعلیمیں آئیں مختلف انبیاء کی طرف ، ان کے متعلق ایک بات واضح ہے اور وہ یہ کہ وہ مختص القوم اور مختص الزمان تھیں یعنی ہر نبی ایک خاص قوم کی طرف ایک خاص زمانہ میں آیا اور اس وجہ سے ان کی تعلیمات مجمل بھی تھیں اور ناقص بھی تھیں اس لئے کہ ابھی اس زمانے میں اس نبی کی جو امت تھی اس کی پوری نشو و نما نہیں ہوئی تھی یعنی جو پہلے نبی گزرے ہیں ان میں سے ہر ایک نبی کی استعداد ابھی کمال کو نہیں پہنچی تھی مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو تعلیم تھی اس میں عام افادہ کی قوت نہیں پائی جاتی تھی کہ ساری دنیا کے انسان کے لئے وہ راہنمائی اور ہدایت کا باعث بن سکے اور یہی حال دوسرے انبیاء کا بھی تھا لیکن جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت انسان کی استعداد میں بحیثیت انسان اپنے کمال کو پہنچ چکی تھیں اور قرآن کریم مختص القوم اور مختص الزمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے تعلیم اور ہدایت لے کر دنیا کی طرف آیا۔تعلیم کے لحاظ سے کامل تعلیم اور اثر کے لحاظ سے کامل تکمیل لے کر آیا یعنی اس نے انسان کی جو تربیت کرنی تھی اور اس کی تکمیل کرنی تھی وہ بھی کمال کی تھی۔غرض قرآن کریم تمام قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تکمیل کے لئے آیا اور ایسے زمانہ میں آیا جب کہ انسان کی استعداد میں اپنے کمال کو پہنچ چکی تھیں۔ایک طرف انسان کی استعداد اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اور دوسری طرف زمین بھی گناہ اور بدکاری اور مخلوق پرستی سے بھر گئی تھی اور اس کے لئے اصلاح عظیم کی ضرورت تھی۔انسان کی استعدا د قر آنی تعلیم کی حامل ہو سکتی تھی مگر وہ خدا سے اتنی دور جا پڑی تھی کہ گو یاز مین پر ایک فساد عظیم بپا ہو چکا تھا۔اس فساد عظیم کو دور کر نے کے لئے ایک عظیم تعلیم کی ضرورت تھی۔ایک کامل اور مکمل ہدایت کی ضرورت تھی۔اس کے بغیر وہ فساد دور نہیں ہو سکتا تھا۔ساری دنیا میں فساد پھیلا ہوا تھا۔انسان کے دل میں اپنے پیدا کرنے والے رب سے دوری اور بیزاری پائی جاتی تھی ، گویا مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی ، شمال میں