خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 120

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۲۰ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۷۷ء ہیں کہ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہی ہے کوئی نہیں جانتا اور عقلمندوں کے سوا کوئی بھی نصیحت حاصل نہیں کرتا۔اے ہمارے رب تو ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو حج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت کے سامان عطا کر یقیناً تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔پھر حضور نے فرمایا:۔جیسا کہ ہم احمدی جانتے ہیں قرآن کریم کے بے شمار بطون ہیں اور اس وجہ سے قرآنِ عظیم کی بڑی شان ہے۔میں نے ان آیات میں سے ۹ باتیں منتخب کی ہیں جن کے متعلق میں مختصراً کچھ بیان کروں گا۔دوست جانتے ہیں کہ گرمی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے۔جب میں گھر سے چلا ہوں تو مجھے شدید سر درد شروع ہو چکی تھی لیکن چونکہ کچھ نافعے پہلے ہی ہو گئے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں آجاؤں اور اختصار کے ساتھ ان باتوں کو بیان کروں۔جو دو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں سے پہلی کے ساتھ آٹھ باتوں کا تعلق ہے اور پھر آگے دعا ہے۔پہلی بات جو اس آیت سے ہمیں پتہ لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ ایک کامل کتاب نازل کی جارہی ہے اور اس کی دلیل یہ دی کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ایت محکمت بھی ہیں اور ایت متشبھت بھی ہیں۔اس میں قرآن کریم کے کمال کی دلیل دی گئی ہے۔ایک تو اس میں ایسی آیات ہیں کہ جو ابدی صداقتوں پر مشتمل ہیں۔ایسی آیات ہیں کہ ظاہری طور پر ان کے دو معنی نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے ایک ہی معنی ہو سکتے ہیں اور وہ کھلی کھلی صداقتیں ہیں مثلاً خدا تعالیٰ کے متعلق جو قرآن کریم نے کہا کہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (الاخلاص : ٢) یہ ایک ابدی صداقت ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق بنیادی چیز ہے کہ خدا ایک ایسی ہستی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔اب اس کی تاویل نہیں ہوسکتی۔خدا ایک ہے۔یہ حقیقت ہے۔پس اس میں ابدی صداقتیں بھی بیان ہوئی ہیں اور دوسرے اس میں وہ باتیں بھی بیان ہوئی ہیں جن کے ان ابدی صداقتوں کی روشنی میں مختلف معانی ہو سکتے ہیں۔بہت سے صحیح معانی ہیں جن کے اوپر ابدی صداقتوں کی روشنی پڑتی ہے اور وہ ان کو منور کر رہی ہوتی ہے۔ایک معنی بھی درست اور دوسرا بھی درست اور تیسرا بھی درست اور ہزارواں بھی درست اور شاید لاکھواں بھی درست کیونکہ