خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 108 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 108

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۷ رمئی ۱۹۷۷ء تھی اس نے ہر قسم کی رحمت مہیا کر دی۔ایک شعر ہے کہ رحمت کا نزول اس طرح ہے کہ ے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے ہر لحظہ خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہورہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام پر ایمان لاکر ، قرآن کریم پر ایمان لا کر، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاکر، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اللہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس اللہ پر ایمان لا کر اور الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَ میں جو سوال کیا گیا تھا اس کا صحیح جواب دے کر ان نعمتوں کو حاصل کیا۔ہر شخص جو اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کے مفہوم کو سمجھتا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے وہ بھی اسی طرح شہر سے بچایا جاتا ہے اور رحمتوں کے دروازے اس پر کھولے جاتے ہیں۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدہ کا تیسرا مفہوم یعنی یہ جو سوال ہے کہ کیا تمہارے لئے خدا کافی نہیں ہے اس کا جواب ان آیات کے آخر میں بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے قُل حَسْبِيَ الله کہہ دے مجھے اللہ کافی ہے۔حسبی الله کے معنی ہی یہ ہیں کہ مجھے اللہ کافی ہے۔وہاں کہا تھا انیس الله بكاف عبده کہ کیا اللہ کافی نہیں تو یہاں کہا کہ تو کہہ دے کہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔یہ اس کا جواب ہے حسبی اللہ یعنی اللہ کافی ہے کہنا محض زبان کا کام نہیں بلکہ انسان کے وجود کا کام ہے۔یہ جواب دینا کہ حسبي الله یہ نہیں کہ زبان پر ہو اور انسان غیر اللہ کی طرف جھک جائے اور ان سے تو قعات رکھنے لگ جائے اور ان سے امیدیں باندھنے لگ جائے اور ان سے سہارا لینے لگ جائے اور کچھ خدا کو دے اور کچھ غیر اللہ کو دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر کچھ خدا کو دو گے اور کچھ غیر کو دو گے تو خدا کہے گا کہ جو مجھے دیتے ہو وہ بھی تمہارے منہ پر مارا جاتا ہے، لے جاؤ سے مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کو تو انسان کی احتیاج نہیں انْتُمُ الْفُقَرَاء إِلى اللهِ (فاطر : ۱۶) ہم ہیں اللہ تعالیٰ کے محتاج ، ہم فقیر ہیں اور محتاج ہیں اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہر رحمت سے حصہ عطا کرے۔عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكَّلُونَ یہاں الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کا جواب حسبی الله کے بعد پھر اسی معنی میں دیا ہے کہ تو گل کرنے والوں کے لئے ایک ہی دروازہ ہے، ایک ہی وجود ہے، ایک ہی ہستی ہے جس