خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 107

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۰۷ خطبہ جمعہ ۲۷ رمئی ۱۹۷۷ء ہر چیز ہے اگر کسی کو ضرر پہنچانا چا ہے، اگر کسی کو سزا دینا چاہے، اگر کسی کی بداعمالیوں کا نتیجہ اسے چکھانا چاہے، اگر اس پر اپنا غضب بھڑکا نا چاہے اور اپنے دست انتقام سے گرفت کرنا چاہے تو یہ لوگ جن کو تم پکارتے ہو خدا تعالیٰ کو عاجز کر دیں گے؟ اس کو جو عزیز بھی ہے اور ذی انتقام بھی ہے وہ اس ضرر اور نقصان کو دور نہیں کر سکتے اور اگر مَنْ يَهْدِ اللهُ فَمَا لَهُ مِن قُضِلّ کے مصداق گروہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا ارادہ کرے تو هَلُ هُنَّ مُسکت رَحْمَتِ؟ کیا تم اس رحمت کو روک سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کی رحمت اس کے نیک بندوں پر نازل ہوتی ہے جس طرح کہ اس کا غضب اس کے بندوں کی اصلاح کے لئے آسمان سے اترتا ہے اور ان کے لئے اس زندگی میں بڑی سخت جہنم پیدا کر دیتا ہے۔رحمت کی بے شمار قسمیں ہیں کیونکہ ہماری زندگی کے بھی بے شمار پہلو ہیں۔مثلاً علم اور فراست میں زیادتی ہے، نور کا حاصل ہونا ہے جس کے متعلق وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ نور تمہارے آگے آگے چلے گا اور تمہاری راہنمائی کرے گا۔اموال میں برکت ہے، اولاد میں برکت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میرے ماننے والے وہ برکتیں لیں گے جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کی ہیں۔جن گھروں میں وہ رہ رہے ہوں گے ان کو خدا تعالیٰ برکتوں سے معمور کر دے گا اور جس چیز کو وہ ہاتھ لگائیں گے وہ برکتوں والی ہو جائے گی لیکن یہ ماننے والوں کے لئے ہے، ریاء اور تکبر جن کے اندر نہ ہو اور الیسَ اللهُ بِكَافٍ عبده پر عمل کرنے والے ہوں۔مولا جس کے بعد تو پھر اپنا نفس بھی باقی نہیں رہتا۔میں نے بتایا ہے کہ پھر کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی۔مِن دُونِے میں جو چیز بھی شامل ہے اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَ اس کی نفی چاہتا ہے۔الیسَ اللهُ بِكَافٍ عبده جو ایک سوال بھی تھا اور ایک حقیقت بھی تھی اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی دیا جو خدا تعالیٰ کے پاک بندے دیتے ہیں جس کا آگے ابھی ذکر آتا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ ان گنت دفعہ یہ الہام خدا نے میرے لئے پورا کیا اور اس کو نشان بنایا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ضرر پہنچانے والے پیدا ہوئے تو خدا تعالیٰ نے حسب وعدہ آیات قرآنیہ اس ضرر کو دور کر دیا اور جہاں خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی ضرورت