خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 104 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 104

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۰۴ خطبہ جمعہ ۲۷ رمئی ۱۹۷۷ء ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے آپ نے یہ نگینہ بنوایا اور اس پر یہ عبارت لکھوائی اور یہ انگوٹھی تیار کروائی۔اب یہ انگوٹھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت راشدہ احمدیہ کو دے دی ہے، بجائے اس کے کہ اسے اپنے خاندان میں رکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس الہام کے بعد میں نے ان گنت بار اللہ تعالیٰ کے نشان ، جو اس وعدہ کو پورا کرنے والے تھے ، اپنی زندگی میں دیکھے جو وعدے اس فقرے کے اندر مضمر ہیں ان آیات میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عبد میں تین مفہوم پائے جاتے ہیں۔ایک تو یہ کہ یہ سوال ہے۔سوال کے طور پر پوچھا گیا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں؟ پھر بہت سے سوال ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں باوجود اس کے کہ فقرہ سوالیہ ہوتا ہے ایک بنیادی حقیقت کا بیان بھی ہوتا ہے مثلاً روزمرہ دنیا میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر کسی باپ کا بیٹا اس کا کہنا نہ مانتا ہو اور وہ اس کو اپنا حق ، جو باپ کا بیٹے پر ہوتا ہے یاد دلانا چاہے تو کہتا ہے کہ کیا میں تمہارا باپ نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ یہ پوچھتا ہے کہ بتاؤ تم میرے بیٹے ہو یا نہیں بلکہ مطلب حقیقت بیان کرنا ہوتا ہے اور سوالیہ فقرے میں اس حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے اس کی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔میں نے ایک موٹی سی مثال دے دی ہے تاکہ ہمارے بچے اور نوجوان بھی سمجھ لیں۔تیسرے یہ فقرہ جواب کا مطالبہ کرتا ہے۔ہر سوال جواب کا مطالبہ کرتا ہے۔چنانچہ جب پوچھا گیا ہے تو مخاطب کو بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافی تو ہے مگر کیا وہ بھی واقعی خدا تعالیٰ کو کافی سمجھتا ہے۔اس تیسرے مفہوم کو لے کر یہ آیتیں آگے مضمون کو اٹھاتی ہیں۔فرما یا کہ جب نوع انسانی سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں تو انسان دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں ایک وہ جو تسلیم کرتے ہیں اور اعتقادر کھتے ہیں اور ان کی روح کی یہ آواز ہوتی ہے کہ خدا ہی ہمارے لئے کافی ہے کسی اور چیز کی ہمیں ضرورت نہیں ، مولا بس۔اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔کبھی وہ بتوں کی طرف جاتے ہیں، کبھی وہ مال و دولت سے مرعوب ہوتے ہیں اور کبھی وہ خدا کو بھول کر ایک ایسے شخص کی طرف جھکتے ہیں جس