خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 99
خطبات ناصر جلد ہفتم ۹۹ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۷۷ء دوڑ رہا ہو۔استغفار اور تو بہ کا یہی مفہوم ہے۔انسان غلطی کرتا ہے۔اس کے اندر بشری کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔پھر جتنا جتنا وہ تقویٰ کی رفعتوں میں بلند ہوتا چلا جاتا ہے بار یک بار یک چیز میں جو عوام کے لے گناہ نہیں ہوتیں اس شخص کے لئے گناہ بن جاتی ہیں۔یہ ایک علیحدہ مضمون ہے جو عارف تر ہے۔وہ تر ساں تر ہے۔سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت اس کے دل میں پائی جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو عام استعداد کا مالک ہے اس پر کوئی الزام ہے۔اسی واسطے میں نے کہا تھا کہ حقیقی متقی وہ ہے جو اپنی استعداد کے لحاظ سے یا تو اپنے کمال کو پہنچ چکا ہو یا اپنی استعداد کے لحاظ سے اپنے کمال کے حصول کے لئے کوشش کر رہا ہو۔ان لوگوں کے متعلق جو ہر پہلو سے خدا کا خوف رکھتے ہیں اور ہر پہلو سے خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والے ہیں اور یا تو اپنی استعداد کے کمال کو قریباً پہنچ چکے ہیں ( ہمارے علم اور تجربہ کے مطابق کمال بھی بڑھتا جاتا ہے ) اور یا اس کے حصول کے لئے کوشاں ہیں اور اس میں سستی نہیں دکھا رہے ان کے متعلق یہ ہے فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کہ یہ جو حقیقی متقی ہیں ان کو نہ پچھلا کوئی غم رہتا ہے اور نہ آگے کی کوئی فکر رہتی ہے یعنی جو غلطیاں انسان سے ہو چکی ہوتی ہیں خدا تعالیٰ کے پیار کی آواز کہتی ہے کہ میری ستاری نے انہیں ڈھانپ لیا۔جس کو خدا تعالیٰ کی یہ آواز پہنچ رہی ہو کہ خدا کی ستاری نے اسے ڈھانپ لیا اسے تو پھر کوئی غم اور فکر باقی نہیں رہتا اور جسے یہ وعدہ دیا گیا ہو کہ ہم تمہاری انگلی پکڑ کر تمہیں آگے ہی آگے لے جائیں گے اس کو بھی کوئی فکر نہیں ہے۔وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) متقیوں میں سے ایک گروہ اپنے کمال کو پہنچا ہوا ہوتا ہے اور پھر کوشش کرتا ہے کہ کمال سے نیچے نہ گرے۔بعض لوگ کمال تک پہنچنے کے بعد بھی گر جاتے ہیں۔ایسی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں قرآن کریم میں بھی ان کا ذکر ہے لیکن جو گروہ کمال کو پہنچا ہوا ہے اور کمال پر رہنے کی کوشش کر رہا ہے ان کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتے ہیں ، خدا تعالیٰ ان کے کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتے ہیں ، خدا تعالیٰ ان کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ کام کرتے ہیں ، خدا تعالیٰ ان کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتے ہیں یعنی ان کی ہر حرکت اور سکون اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق اور اس