خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 88
خطبات ناصر جلد ہفتم ٨٨ خطبہ جمعہ ۲۲ را پریل ۱۹۷۷ء وہ شرط ہے تقویٰ کی شرط ، تزکیہ نفس یعنی نفس کی پاکیزگی اور طہارت کی شرط۔ظاہری علوم میں تقویٰ کی شرط نہیں ہے چنانچہ بہت سے ، ظاہری علوم میں بڑی دسترس رکھنے والے لوگ بھی ہمیں فسق و فجور میں مبتلا نظر آتے ہیں اور وہ قومیں جنہوں نے دنیوی علوم میں بڑی ترقی کی ہے ان کا تو بہت بُرا حال ہے۔جو دوست اخبار پڑھتے ہیں رسالے دیکھتے ہیں اور دنیا کا علم رکھتے ہیں ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اتنا گند ہے اتنا فسق اور فجور ہے ان قوموں کی زندگی میں کہ اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ حصول علم ظاہری میں تقوی شرط نہیں۔صرف یہ نہیں کہ گندگی سے اور نجاست سے اور فسق اور فجور سے اور درندگی سے انہوں نے خود کو نہیں بچایا بلکہ دُکھوں کے سامان پیدا کئے اور بھلائی کے سامانوں کو مٹانے کی کوشش کی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لاکھوں انسانوں کی جانیں تلف کر دی گئیں۔اس صدی میں یہ جولڑائیاں ہوئی ہیں یعنی دو عالمگیر جنگیں آدمی سوچتا ہے تو جنگ کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ کیوں انسان لڑے اور حیران ہوتا ہے کہ وہ انسان لڑ پڑے جو خود کو علوم ظاہری کا بادشاہ سمجھتے تھے اور خود کو روشن خیال“ قرار دیتے تھے اور بڑا سمجھدار گردانتے تھے۔وہ اس طرح گھتم گتھا ہو گئے کہ ( جوان تو خیر جنگ میں مارا جاتا ہے ) نہ انہوں نے بوڑھوں کے بڑھاپے کا خیال رکھا ان کو مار دیا ، نہ انہوں نے ان کا خیال رکھا جو ظاہری طور پر دین سے تعلق رکھنے والے تھے یعنی پادری وغیرہ ان کو قتل کر دیا۔نہ عورت سے شرم آئی بڑی کثرت سے عورتوں کو مارا گیا۔ہتھیا رہی اس قسم کے استعمال کر رہے تھے۔بچے قتل کئے گئے اور دنیوی علوم کے لحاظ سے وہ بڑے دانا تھے۔پس جیسا کہ حصول علم ظاہری کے لئے تقویٰ شرط نہیں ہے اسی طرح ظاہری علوم کے استعمال کے لئے بھی تقویٰ شرط نہیں ہے یعنی جو لوگ تقویٰ سے بے نیاز ہیں وہ صرف یہ نہیں کہ علم کے حصول یا تحقیق میں تقویٰ سے کام نہیں لیتے بلکہ جو کچھ وہ علم کے میدان میں حاصل کرتے ہیں اس کا استعمال ایسے رنگ میں کرتے ہیں کہ وہ نوع انسانی کی بہبود کی بجائے ان کی ہلاکت کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔قرآن کریم کے جو علوم ہیں جو روحانی علوم ہیں ان کے ساتھ تقویٰ کی شرط ہے۔تقویٰ کے بغیر قرآنی علوم قرآنی اسرار، روحانی اسرار انسان حاصل نہیں کر سکتا۔تقویٰ کے معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ