خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 83

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۸۳ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۷۷ء جن کا نہ براہ راست اور نہ بالواسطہ اس کی ذات کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔وہ ایک کام کرتا ہے، کام کرنا اس کا فعل ہے لیکن اس کا فائدہ کسی دوسرے انسان کو پہنچ رہا ہوتا ہے لیکن جہاں تک خدا کے ایک عارف بندہ کا سوال ہے اس کا ہر کام جو وہ کرتا ہے اس میں وہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِینَ ہے اور دوسرے یہ کہ جب تقویٰ کی بنیادوں پر کام کیا گیا ہو اور بظاہر دنیوی اصول کے مطابق اس کے نفس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو تب بھی خدا تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے۔گویا انسان کا کوئی فعل اپنے اس نتیجہ کے بغیر نہیں رہتا کہ اس کو اس کا بدلہ ملے اور وہ اس کا ثواب پائے۔غرض خدا ایک بڑی ہی عظیم ہستی ہے ، وہ بڑی پیار کرنے والی ہستی ہے، وہ بڑے احسان کرنے والی ہستی ہے اور بڑی رحمتوں سے نواز نے والی ہستی ہے۔دنیا دار تو کام کروا کے بھی ناشکرے بن جاتے ہیں مگر ہمارا رب جسے کام کی احتیاج بھی نہیں لیکن اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے جو کام کیا جاتا ہے اس پر اس کا اسی طرح رد عمل ہوتا ہے جس طرح کہ گویا اس نے خدا کے لئے کام کیا ہے۔وہ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِینَ ہے لیکن اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ جب میں ننگا ہوتا ہوں تو بعض لوگ مجھے کپڑے دیتے ہیں۔میں بھوکا ہوتا ہوں تو میری بھوک کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ دراصل مخلوق خدا کی بھلائی کی طرف اشارہ ہے۔زید یا بکر کا ہر وہ کام جو خدا کی مخلوق کے کسی حصے سے تعلق رکھتا اور ان کی بھلائی کی خاطر کیا جاتا ہے اسلامی تعلیم کے مطابق خدا تعالیٰ انسان کو اس کی جزا دے گا۔پس ایک تو انسان انسان کا تعلق ہے جس میں ایک مومن انسان سمجھتا ہے لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا (الدھر : ۱۰)۔مومن اپنے بھائی کا کام کرتا ہے مگر اس کے دل کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ نہ جزا چاہتا ہے اور نہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کا احسان مند ہواورشکر کے کلمات کہے۔بعض لوگ کسی کے شکر گزار ہو جاتے ہیں بعض نہیں ہوتے لیکن خدا کے پیارے بندہ کو اس سے کیا تعلق؟ کیونکہ اس نے تو خدا کی خوشنودی کے حصول کے لئے اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کی رحمتوں کو پانے کے لئے ہر کام کرنا ہے۔