خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 81 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 81

خطبات ناصر جلد ہفتم ΔΙ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۷۷ء ہر احمدی اپنے اندر حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ کا جذبہ رکھتا ہے خطبه جمعه فرموده ۱۵ را پریل ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس دنیا میں ہم جو بھی کام کرتے ہیں وہ یا تو اپنے لئے ہوتا ہے یا کسی اور کے لئے ہوتا ہے اور اگر اپنے لئے ہوتا ہے تو ضروری نہیں کہ اس کا نتیجہ صحیح نکلے اور اگر غیر کے لئے ہوتا ہے تو بہت سے ایسے کام ہیں جو انسان دوسروں کے لئے کرتا ہے اور اس کا اپنا کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن ایک ایسی ہستی ہے کہ جس کے لئے انسان کام ہی نہیں کر سکتا۔اس ہستی کے علاوہ انسان اس دنیا میں ہر دوسرے کے لئے کام کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔کوئی کسی کے لئے کام کر رہا ہے اور کوئی کسی کے لئے کر رہا ہے لیکن ایک ہستی ایسی ہے جس کے لئے انسان کام ہی نہیں کرسکتا کیونکہ اسے اس کی احتیاج ہی نہیں۔وہ ہستی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو غنِی عَنِ الْعَلَمِينَ (آل عمران : ۹۸) ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ جو شخص اس کی رضا کے لئے کام کرتا ہے خواہ وہ بظاہر اپنے لئے کر رہا ہو یا کسی دوسرے کے لئے کر رہا ہو ہر کام جو خدا کی خوشنودی کے حصول کے لئے اور اس کے حکم کے ماتحت انسان کرتا ہے اس کا نتیجہ اس کا اجر اور اس کا ثواب اس کو بھی ملتا ہے حالانکہ وہ کام کر رہا ہوتا ہے کسی دوسرے کا جس کے ساتھ دنیوی لحاظ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ