خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 76 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 76

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۷۶ خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۷۷ء کہ جو خدا نے کہا ہے وہ تم نے کرنا ہے۔پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے کہا:۔أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج:۴۰) کہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین پر ظلم کی انتہا ہو گئی ہے اس لئے ان کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ ظلم کا مقابلہ کریں۔تب انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے پاس سیف ہندی یا زنگ آلود معمولی سی تلوار ہے ( ہندوستان کی بنی ہوئی تلوار میں بہت مشہور تھیں ، بڑے اچھے لو ہے اور بڑی تیز دھار والی تھیں ) غرض دنیا کی بہترین تلوار کفر کے ہاتھ میں تھی اور مسلمانوں کے ہاتھ میں زنگ آلود تلوار میں تھیں جن پر دندانے پڑے ہوئے تھے اور کچھ تو مانگی ہوئی تھیں۔انہوں نے کہا۔مولا بس۔چنانچہ ٹوٹی ہوئی تلوار میں لے کر ننگے پاؤں لڑنے کے لئے چلے گئے کیونکہ خدا نے کہا تھالڑ و۔مارنے اور ہلاک کرنے کے لئے نہیں بلکہ عرب میں امن اور آشتی پیدا کرنے کے لئے۔یہ دفاعی جنگ تھی ظلم کو مٹانے اور جنگوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اور پھر فتح مکہ کے موقع پر تھوڑے سے ہتھیار استعمال ہوئے مگر جنگوں کا خاتمہ ہو گیا۔چنانچہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ظاہر ہوئی کہ عمر بھر کے جو 99111 ویری اور دشمن تھے ان کو لا تثریب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا نعرہ لگا کر خدا تعالیٰ کی رحمت کی جنتوں کی طرف دھکیل دیا۔جو لوگ اسلام کے دشمن تھے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے اور مسلمانوں کے دشمن تھے ان کے کانوں میں جب اس نعرہ کی آواز آئی تو وہ جا کر اسلام لے آئے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بن گئے۔پس حقیقت یہی ہے کہ مولا بس۔اور آج کی دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایک ایسی جماعت ہے جو یہ کہتی ہے کہ ہم بھی ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ہماری زندگی بھی اسی بنیاد پر استوار ہے کہ مولا بس۔ہماری روح کی بھی یہی آواز ہے۔خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ سے اتنا پیار کرتا ہے کہ سوائے اس گروہ کے جنہوں نے بہت قربانیاں دیں۔ان کے ساتھ تو ہم مقابلہ نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے بڑا مقام حاصل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اور آپ سے تربیت حاصل کر کے۔لیکن وعدہ دیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی صحبت اور روحانی تربیت جو ہے وہ بہت بڑے پیمانے پر اور ایک شان کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ