خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 564

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۶۴ خطبه جمعه ۲۹/ دسمبر ۱۹۷۸ء عبادت کرتا ہے تو تم ساری دنیا کی طاقتیں اکٹھی ہو کر کہو کہ ہم نے تمہیں اسلام سے باہر نکالا اور اب خدا تمہارے ساتھ پیار کا سلوک نہیں کرے گا اور تمہارے اعمال کی پیاری جزا نہیں دے گا تو خدا کو تم مجبور نہیں کر سکتے۔جو لوگ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ خدا کے حضور کچھ پیش کرنے والے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتے رہیں گے۔دنیا جو مرضی کہتی رہے اور جو مرضی سمجھتی رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پس دعا یہی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان سے بچائے۔شیطان ہمارے دلوں میں کوئی وسوسہ نہ پیدا کر سکے اور ہمارے دلوں میں کھوٹ نہ پیدا ہو جائے۔ہمارے اخلاص اور ہماری عبادات میں کہیں ریا اور نفاق نہ پیدا ہو جائے۔اگر ہمارے دل خالصۂ خدا تعالیٰ کی محبت میں مگن ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت رکھنے والے ہیں اور اگر ہم نماز اس لئے پڑھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ نماز پڑھو اور اگر ہم کھانا اس لئے کھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کھانا کھاؤ اور اگر ہم اپنی بیویوں سے حسن سلوک اس لئے کرتے ہیں کہ خدا نے کہا کہ ان کے ساتھ تم نے حسن سلوک کرنا ہے فرمایا عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُونِ (النساء :۲۰) اس لئے کہ محبت سکھانے کا پہلا مدرسہ تمہارا اپنا گھر ہے اور اسی طرح اگر تمہارا ہر کام خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق چلنے کی شدید خواہش کے نتیجہ میں ہے اور ہر کام سے رکنا خدا تعالیٰ کی خشیت کے نتیجہ میں ہے تو ہم نے خدا ہی سے جزا پانی ہے۔ہم نے خدائی جزا کے لئے کسی انسان کے سامنے کشکول نہیں کرنا کہ اس میں کچھ ڈال دو۔پس دوست دعا کریں ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے خالص نیک بندوں میں شامل کرے اور ہمیں ہمیشہ ہی اس راہ پر گامزن رکھے اور جن لوگوں کا ان آیات میں ذکر ہوا ہے کہ وہ ایمان لائے اور ہدایت ان پر ظاہر ہوگئی اور پھر اس کو چھوڑ کر چلے گئے اس گروہ میں ہم میں سے کوئی بھی کبھی شامل نہ ہو اور چونکہ ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔ہم نے کبھی ارتداد کا سوچا بھی نہیں۔ہم اس بات کو لعنت سمجھتے ہیں کہ ہماری زبان یہ کہے کہ ہم مسلمان نہیں اور ہم نے خدا کو