خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 42

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲ خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۷۷ء یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ کسی کی اولاد کو کثرت سے بڑھا رہا ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں نیکیاں کرنے والے ہیں اور گویا خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ اور بڑھ چڑھ کر نیکیاں کریں بلکہ وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرتے ہیں دولت کے غلط استعمال سے۔وہ اپنے جتھے کے زور پر ظلم اور فساد بپا کرنا چاہتے ہیں۔لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اور بھلائی کی باتوں اور خیر خواہی کی را ہوں کو اختیار نہیں کرتے۔پس کسی کے پاس محض مال کا ہونا یا کثرت سے دولت کا ہونا یا آبادی کا زیادہ ہونا جیسا کہ آج کل یورپین ممالک ہیں اور اسی طرح دہر یہ ممالک ہیں۔ان کے پاس دولت بھی بڑی ہے اور جتھہ بھی بڑا ہے۔بعض ممالک کی کل آبادی سے زیادہ تو ان کی فوجیں ہی ہیں۔غرض محض دنیوی اموال اور نسل کی کثرت خدا تعالیٰ کے پیار کا نشان نہیں ہوتے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے پیار کا نشان یہ ہے کہ جہاں تک خدا تعالیٰ سے تعلق کا معاملہ ہے خفیہ اللہ ہونی چاہیے اور خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو راہِ راست پر قائم رکھنے یا صراطِ مستقیم کی طرف کھینچنے کے لئے جو آسمانی نشان ظاہر کرتا ہے اس کو سمجھنے کی توفیق کا پانا اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔انسان کے دل میں کسی قسم کا شرک نہ ہو ، نہ وہ اپنے مال کو کچھ سمجھے اور نہ اپنے جتھے کو کچھ سمجھے اور نہ اپنے نفس کو کچھ سمجھے بلکہ جو کچھ بھی توفیق پائے اور جو کچھ بھی حاصل کرے اسے محض اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے اور اس کا فضل اور رحمت تصور کرے اور جو کچھ بھی اسے ملے اس کا فائدہ وہ دوسروں کو بھی پہنچانے والا ہو اور ڈرتا رہے کہ کہیں بظا ہر خیر کے یہ اعمال اور نیکی کی یہ باتیں ریا کے نتیجہ میں یا تکبر اور فخر کی وجہ سے اسے خدا سے دور لے جانے والی نہ بن جائیں۔انسان ہر وقت اس بات کو یادر کھے کہ ایک دن اسے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ نیکیاں مقبول ہونے کے قابل تھیں یا نہیں۔فرمایا أُولئِكَ يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْراتِ یہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں جلد جلد آگے بڑھنے والے ہیں محض مال کوئی چیز نہیں۔نہ اس سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ چونکہ کسی شخص کے پاس کثرت سے دولت پائی جاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس سے بڑا خوش ہے اور یہی حال کثرت نسل کا ہے جس کے نتیجہ میں ایک اقتدار پیدا ہوتا ہے۔ہم نے اپنے ملک میں بھی دیکھا ہے بعض دیہاتی اور