خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 538
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۳۸ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۷۸ء اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق صحیح تصویر پیش نہیں کرتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات زمانہ سے بالا تر ہے اور زمانہ اس کی مٹھی میں اسی طرح ہے جس طرح کہ اس کی دوسری مخلوق لیکن ہم ایک دوسرے کو سمجھانے کے لئے ایسے محاورے استعمال کرتے ہیں جن کی ہماری زبان متحمل ہو سکتی ہے اور خدا تعالیٰ کی محض تشبیبی صفات ہی نہیں ہیں یعنی ایسی صفات جن کے متعلق انسان کو یہ کہا گیا ہے کہ تم ان صفات میں خدا تعالیٰ کا مظہر بنو، خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تشبیبی صفات کا مظہر بنے لیکن خدا تعالیٰ کی اس کے علاوہ اور بھی صفات ہیں جنہیں ہم اسلام کی اصطلاح میں تنزیہی صفات کہتے ہیں اور جہاں تک تنزیہی صفات کا تعلق ہے ان میں کوئی بھی خدا تعالیٰ کا مظہر نہیں بن سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی تشبیہی صفات کے مظہر اتم تھے یعنی خدا تعالیٰ کی صفات کے عکس کامل تھے اور خدا تعالیٰ اسلام میں فرماتا ہے کہ میں نے جتنی طاقتیں انسان کو دی ہیں انسان اگر چاہے اور خلوص نیت سے کوشش کرے تو ان سب طاقتوں پر وہ خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کا رنگ چڑھا سکتا ہے۔اس وقت جو بات میں بتا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ہمیں بتایا اور جس عظمت اور جلال اور تقدس کی ہمیں معرفت عطا کی اس کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ تقدس اور عظمت اور جلال کے مرتبہ پر ہے۔اس کے برعکس انسان نہایت درجہ ظلمت اور معصیت اور آلودگی کے گڑھے میں ہے اور جہاں تک انسان کی اس کمزوری اور خدا تعالیٰ کی اس عظمت کا تعلق بوجہ فقدان مناسبت اور بوجہ نہ ہو نے مشابہت کے انسانوں کا عام طبقہ اس لائق نہیں کہ وہ براہِ راست خدا تعالیٰ سے فیض پا کر مرتبہ نجات کا حاصل کر لے۔مناسبت اور مشابہت کے اس فقدان کی وجہ سے باوجود اس کے کہ انسان کو وہ قو تیں اور استعدادیں دی گئی ہیں جن کے صحیح استعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ خدا کی رحمت اور اس کی مہربانی سے انسان کی صفات پر چڑھ جاتا ہے پھر بھی جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان کے لئے بہت مشکل ہے کہ ان قوتوں اور استعدادوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ براہ راست خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کر سکیں اور اس کے فیض کو پاسکیں اور نجات حاصل کر سکیں۔اگر یہ بات آپ کے ذہن میں آگئی ہے تو اگلی بات